.

امریکی کانگریس کی خفیہ منظوری سے شامی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی

سلامتی کے اداروں اور کانگریس کو یقین ہے کہ اسلحہ اعتدال پسندوں تک رہیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس نے شام کے جنوبی علاقوں میں برسرپیکار اعتدال پسند باغیوں کو ہلکا اسلحہ دینے کی'' رازدارانہ انداز'' میں منظوری دے دی ہے۔ اس امر کا انکشاف عالمی خبر رساں ادارے رائٹر امریکی اور مغربی سکیورٹی حکام کے حوالے سے کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کانگریس نے ایک ان کیمرہ اجلاس جس کیلیے کلوز ڈور ووٹنگ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، میں اعتدال پسند باغیوں کو فنڈز دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ باغیوں کو یہ فنڈز 30 ستمبر 2014 کو مالی سال کے اختتام تک دیے جانے کی منظوری دی گئی ہے۔

جن ہتھیاروں کے فراہم کیے جانے کی منظوری دی گئی ہے، ان میں ہلکے مگر موثر ہتھیاروں کے علاوہ ٹینک شکن راکٹ اور کندھوں پر رکھ کر چلائے جانے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہوں گے۔ جن کی مدد سے باغی سرکاری طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے پر قادر ہوں گے۔

شام میں جاری صورت حال کے حوالے سے سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار بروس رائیڈل کے مطابق خانہ جنگی کو جمود کا شکار قرار دیا ہے۔ رائیڈل نے کہا '' باغیوں کا منظم نہ ہونا اور اسلحے کی کمی بشارالاسد کو شکست دینے میں رکاوٹ ہیں، جبکہ بشار رجیم کے پاس وفادار افرادی قوت کا فقدان ہے اس لیے وہ بھی باغیوں کو دباو میں لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔''

شام میں جاری صورتحال سے براہ راست متعلق ایک امریکی دفاعی ذمہ دار کا اس بارے میں کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے ایشوز کو ڈیل کرنے والے حکام اور کانگریس اس حوالے سے یقین رکھتے ہیں کہ جنوبی شام میں بھیجے جانے والے ہتھیار اعتدال پسند باغیوں کے ہی کنٹرول میں رہیں گے۔''

کانگریس سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں کو ہتھیار خفیہ انداز میں دیے جانے کی منظوری دی ہے، جس کی امور سلامتی میں گنجائش ہے، تاہم ان ذرائع نے یہ بتانے سے معذوری ظاہر کی ہے کہ یہ سلسلہ کب سے جاری ہے۔