.

عراق:مسلح افراد کے حملے میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک

بعقوبہ میں نامعلوم مسلح افراد کی سکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں روز بروز امن وامان کی صورت حال خراب تر ہوتی جارہی ہے اور دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع شہروں میں مسلح افراد کے حملوں میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

شمالی شہر بعقوبہ کے نزدیک ایک چیک پوائنٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے فوجیوں اور القاعدہ مخالف ملیشیا صحوۃ کے ایک مشترکہ چیک پوائنٹ پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں پانچ فوجی اور صحوہ کا ایک جنگجو مارا گیا ہے۔

شمالی شہر کرکوک میں نامعلوم مسلح افراد نے عراقی پولیس کے ایک انٹیلی جنس افسر کو اغوا کے بعد سر میں گولی مار کر قتل کردیا ہے۔گذشتہ روزشمالی شہر سامراء میں فائرنگ کے ایک اور واقعے میں دو پولیس اہلکار اور صحوہ کا ایک جنگجو ہلاک ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ صحوہ ملیشیا میں سنی عرب جنگجو شامل ہیں۔انھوں نے 2007ء میں عراق کے مغربی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے کے لیے امریکا کی عسکری معاونت کی تھی اور اس کے بعد سے وہ عراق کی سرکاری فورسز کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن سنی مزاحمت کار انھیں غدار قرار دیتے ہیں۔

صحوہ اور دوسرے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی لیکن یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب القاعدہ سے وابستہ گروپ دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کے جنگجوؤں اور عراقی سکیورٹی فورسز کے درمیان صوبہ الانبار میں جھڑپیں جاری ہیں۔داعش اور اس کے حامی سنی جنگجوؤں نے لانبار کے بڑے شہروں رمادی اور فلوجہ پر گذشتہ ماہ سے قبضہ کررکھا ہے ۔عراقی فورسز القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں لیکن ابھی تک وہ ان کا قبضہ ختم کرانے اور ان دونوں شہروں کا کنٹرول واپس لینے میں ناکام ہیں۔

القاعدہ کے جنگجوؤں اور عراقی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد عراق میں ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس ماہ اب تک ساڑھے آٹھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔الانبار میں گذشتہ ایک ماہ سے جاری شورش کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔