.

اسرائیل 3 سال میں فلسطینی علاقے خالی کرسکتا ہے:محمود عباس

دیرینہ تنازعہ طے ہونے پر دنیا کے 57 ممالک اسرائیل سے امن قائم کرلیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا کوئی بھی حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد تین سال میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی کرسکتا ہے۔

فلسطینی صدر نے یہ بات منگل کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''جولوگ دس سے پندرہ سال کے درمیان انخلاء کی تجویز پیش کررہے ہیں،وہ دراصل انخلاء چاہتے ہی نہیں ہیں''۔ان کا یہ انٹرویو تل ابیب میں انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے زیراہتمام سالانہ کانفرنس کے دوران سکرین پر دکھایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم فلسطینی علاقوں سے انخلاء کے لیے اسرائیل کو ایک مناسب وقت دینے کو تیار ہیں لیکن یہ وقت تین سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔اسرائیل بتدریج اس عرصے میں انخلاء کرسکتا ہے''۔

ان کا یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور فریقین میں سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔امریکا نے اسرائیل اور فلسطینیوں کو امن معاہدے کے لیے اپریل کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی لیکن تب تک ان کے درمیان مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے تمام اختلافی امور پر اتفاق رائے مشکل نظر آرہا ہے۔

اسرائیل مغربی کنارے کی اردن کے ساتھ واقع وادی اردن میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے پر اصرار کررہا ہے جبکہ فلسطینی اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء پر اصرار کررہے ہیں تاکہ علاقے میں بین الاقوامی فورسز کو تعینات کیا جاسکے۔

صدر محمود عباس نے اپنے انٹرویو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ'' ہمیں اسرائیلی انخلاء کے بعد یا اس کے دوران کسی تیسرے فریق کی موجودگی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا تاکہ ہمیں اور اسرائیلیوں کو یہ یقین دہانی کرائی جاسکے کہ انخلاء کا عمل مکمل کیا جائے گا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمارے خیال میں نیٹو کو اس مشن کی ذمے داری سونپی جاسکتی ہے اور وہ ایک مناسب فریق ہے لیکن فلسطینی سرحدوں کا کنٹرول فلسطینی فورسز کے پاس ہی ہونا چاہیے اور اسرائیلی فوج تعینات نہیں ہونی چاہیے''۔

انھوں نے فلسطینیوں کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ تنازعے کا دو ریاستی حل 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہونا چاہیے اور فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مقبوضہ مشرقی القدس ہوگا۔

محمود عباس کا کہنا تھا کہ تنازعے کے حل سے اسرائیل کو دنیا کے ستاون مسلم ممالک تسلیم کر لیں گے اور مجھے امید ہے کہ اسرائیلی عوام بھی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے کیونکہ اس کے بعد تو موریتانیہ سےانڈونیشنا تک اسرائیل کے ساتھ امن بہا چلا آئے گا جبکہ اس وقت تو امن ایک جزیرے ہی میں بند ہے۔