.

سعودی عرب: ازدواجی عدم اطمینان نے شرح طلاق بڑھا دی

پچھلے سال کے دوران 1371 خواتین نے طلاق مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ازدواجی زندگی سے عدم اطمینان کے باعث طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان سامنے آیا ہے۔ وزارت انصاف کے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق 2013 کے دوران اس بنیاد پر 1371 خواتین سمیت 1650 طلاق کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

سابق جج اور عائلی تنازعات طے کرنے کیلیے قائم بورڈ کے قانونی مشیر احمد ساقیہ نے ''العربیہ'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اس نوعیت کے مقدمات عام طور پر خواتین کے آبائی شہروں اور قصبات میں دائر کیے جاتے ہیں۔

احمد ساقیہ نے کہا '' ایک خاتون طلاق لینے کیلیے عدالت سے رجوع کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ گھر اور خاندان کی سطح پر تصفیہ نہیں ہو سکا ہے۔'' قانونی امور کے اس ماہر کا کہنا تھا ''ایسی درجنوں کہانیاں عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آتی ہیں کہ تعلقات زن وشو میں دونوں فریقوں کا اطمینان عائلی اور ازدواجی زندگی میں خوشگواریت اور پائیداریت کا ذریعہ بنتا ہے بصورت دیگر میاں بیوی کا اکٹھے بسنا مشکل ہو جاتا ہے۔''

'انہوں نے مزید کہا '' روایت پسند معاشروں میں خواتین کو اس بنیاد پر طلاق لینے میں شرم یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، یہ ایک معمول کا معاملہ ہے اور عدالتوں میں اس طرح کے مقدمات آتے رہتے ہیں، بلکہ میں تو اس حیران ہوں کہ یہ مقدمات بعض لوگوں کیلیے چونکا دینے والے کیوں ہوتے ہیں۔ ''

اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے احمد ساقیہ نے کہا '' شادی کے بعد ایسے بہت سے جوڑے ہوتے ہیں جنہیں زن وشو کے انتہائی اہم اور نجی معاملات میں مشکلات یا مسائل کا سامنا ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے مسائل حل کر لیتے ہیں تاہم یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، سادہ سا معاملہ نہیں ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ان معاملات میں زیادہ جذباتی ہونا اور میاں یا بیوی میں سے کسی ایک یا دونوں کا ایک دوسرے کے علاوہ کسی کے ساتھ غیر قانونی اور اخلاقی قدغنوں سے بے نیاز ہو کر تعلق رکھنا بھی اس مسئلے کے بڑھنے کا سبب ہے۔

عائلی زندگی میں اس طرح کے مسائل سے متعلق ایک قانونی ماہر کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ بعض اوقات وکلاء بھی احسن انداز سے سمجھنے اور نمٹانے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے وکلاء عام طور پر اپنے موکلین کو نفسیاتی حل کی طرف مائل کرتے ہیں۔

سلطان ذاہم ایسے امور کو ڈیل کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ '' سعودی وزارت انصاف نے مقدمات کے حوالے سے سامنے آنے والے اعداد وشمار کو گھٹا کر بیان کیا ہے، جبکہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ اور سنگین ہے۔ عدالتوں میں اس نوعیت کے اس سے کہیں زیادہ مقدمات زیر سماعت ہیں۔ جن میں ازدواجی تعلقات کی عدم اطمینانی کے سبب طلاق لینے یا طلاق دینے کی استدعا کی گئی ہے۔