.

ایران کے جوہری امور طے کرنے کیلیے مشکل وقت ہے: یوکیا امانو

معاہدہ نومبر کے تحت پچھلے اور اگلے تمام معاملات حل کرنا ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے'' واچ ڈاگ '' نے ایران کے ساتھ جوہری ایشو پر معاملات طے کرنے کیلیے موجودہ وقت کو زیادہ مشکل قرار دیا ہے۔ اس امر کا اظہار آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو نے ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

یوکیا امانو نے کہا '' ہم نے کام کا آغاز سہل اور عملی اقدامات سے کیا ہے، مشکل اور معاملات کو بعد میں دیکھا جائے گا۔'' ان کا کہنا تھا '' یقینا ہم سارے ایشو کو اگلے مرحلے پر ممکنہ عسکری پہلووں کے حوالوں کو مد نظر رکھ کر دیکھیں گے۔''

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کی '' ہم پہلے بھی اس معاملے پر بات کر چکے ہیں اور آئندہ بھی اس موضوع پر بات چیت جاری رکھیں گے۔''

خیال رہے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 8 فروری سے شروع ہو گا۔ اس دوران آئی اے ای اے سے ہونے والے چھ مراحل پر محیط معاہدے کے تحت ایرانی تنصیبات کا معائنہ ہو گا، جیسا کہ پچھلے ما ہ دسمبر اور رواں ماہ جنوری میں ہو چکا ہے۔

یوکیا امانو نے کہا '' ایران کے ساتھ چھ طاقتوں کے 24 نومبر کو ہونے والے معاہدے میں طے پا چکا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ماضی کے تمام اور موجودہ امور طے ہونا ضروری ہے۔''

رواں ماہ کے دوران وائٹ ہاوس سفارت کاری کا ایک موقع دینے کیلیے کانگریس کی ایران پر طرف سے مزید پابندیوں کو روکنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔