.

جنیوا ٹو، سات دن میں حمص کیلیے خوراک کا فیصلہ نہ ہو سکا

بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے: براہیمی، مزید مذاکرات کیلیے آج وقفے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں قیام امن اور عبوری حکومت ایسے اہم امور طے کرنے کیلیے جنیوا میں دوسری امن کانفرنس پورے ایک ہفتے کے مذاکرات کے باوجود زیر محاصرہ شہر حمص کے متاثرین کو فراہمی امداد کا فیصلہ بھی نہیں کر سکی ہے۔

اس سے پہلے شام کیلیے اقوام متحدہ کے نمائندے الاخضر براہیمی قدرے مایوسی اور قدرے امید کا ملا جلا اظہار کرتے رہے ہیں۔ فریقین کے سخت موقف کے باعث اقوام متحدہ کے لیے اہم سوال اس بات چیت کو کس طرح آگے بڑھانے کا پیدا ہو گیا ہے۔

تاہم براہیمی کو سب سے زیادہ جس چیز نے مایوس کیا ہے وہ حمص میں خوراک کی فراہمی ممکن نہ ہونا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ '' میں اس معاملے پر بہت زیادہ مایوس ہوں۔'' جمعہ کے روز ان اب تک کے مذاکرات کا رسمی اختتام ہوا جبکہ کچھ دنوں کے وقفے کے بعد یہ مذاکرات دوبارہ ہو سکیں گے۔

الاخضر براہیمی نے کہا ہے امید ہے ''جب ہم دوبارہ واپس آئیں گے تو زیادہ بامعنی اور ٹھوس گفتگو ہو سکے گی۔'' انہوں نے کہا ''اہم ترجیح ان مذاکرات کو امید کی طرف لانا ہے، ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں طرف کے سخت موقف میں بہتری آ جائے۔''

واضح رہے بدھ کے روز دونوں فریق پہلی جنیوا امن کانفرنس منعقدہ 2012 کے اعلامیے پرعبوری بات چیت کیلیے آمادہ ہو گئے لیکن بعد ازاں جمعرات کے روز دونوں اپنی متصادم آراء پر واپس چلے گئے۔

البتہ جمعرات کے روز ایک اتفاق دیکھنے میں آیا اور مذاکرات کے تمام شرکا نے شام میں ہلاک ہونے والے ایک لاکھ تیس ہزار افراد کیلیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ آج جمعہ کے دن مذاکرات میں امکان ہے کہ دس فروری تک کیلیے وقفہ کر دیا جائے گا۔