.

جنیوا مذاکرات کا کوئی''ٹھوس'' نتیجہ برآمد نہیں ہوا: ولید المعلم

حزب اختلاف نے عدم سنجیدگی اور نابالغ پن کا مظاہرہ کیا ہے: صحافیوں سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت اور حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے درمیان جنیوا میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔

شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے حزب اختلاف کے وفد کی عدم سنجیدگی اور عدم بلوغت کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ اس نے امن مذاکرات کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''حزب اختلاف کا وفد ایسا رویہ ظاہر کر رہا تھا کہ شاید ہم یہاں ایک گھنٹے کے لیے سب کچھ ان کے حوالے کرنے آئے ہیں۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ التباسوں میں رہ رہے تھے''۔

ولید المعلم کی جنیوا میں صحافیوں سے اس گفتگو سے قبل اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی برائے شام الاخضرالابراہیمی نے کہا کہ ''وہ دونوں فریقوں کو 10 فروری کو دوبارہ مذاکرات کے نئے دور کے لیے میز پر دوبارہ بلانا چاہتے ہیں''۔

انھوں نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ حزب اختلاف نے مذاکرات کے نئے دور میں شرکت سے اتفاق کیا ہے لیکن حکومتی وفد کا کہنا تھا کہ وہ اس سے پہلے دمشق سے مشاورت کرنا چاہتا ہے۔

شامی وزیرخارجہ کے بہ قول صدر بشارالاسد اور ان کی حکومت پہلے وفد کی رپورٹ ملاحظہ کرے گی اور پھر کسی اگلے اقدام سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے مطالبہ کیا تو مذاکرات کار بات چیت کے لیے لوٹ جائیں گے۔

جنیوا مذاکرات کے دوران شامی حکومت اور حزب اختلاف کا وفد دونوں ہی خود کو شامی عوام کا نمائندہ قرار دیتے رہے ہیں۔اسد حکومت کا دعویٰ ہے کہ باغی امریکا ،ترکی اور خلیجی بادشاہتوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔ولیدالمعلم نے کہا کہ ''ہم عوام کی تشویش اور ان کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ہم ایک ملک ہیں،ہماری اپنی حکومت اور ادارے ہیں،ہم تبادلہ خیال کے لیے تیار ہیں،اس مقصد کے لیے ہمیں دوسرے فریق کی شناخت درکار ہے۔ کیا وہ شامی ہیں یا نہیں ہیں؟''۔

ولیدالمعلم کا کہنا تھا کہ جنیوا اول کا اعلامیہ شامیوں کی عدم موجودگی میں وضع کیا گیا تھا۔ان کے بہ قول اس کی دونوں فریق اپنے اپنے انداز میں تشریح کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے تشویش کا سب سے بڑا سبب دہشت گردی سے نمٹنا ہے جبکہ حزب اختلاف شام میں جو کچھ رو نما ہورہا ہے،اس سے مکمل طور پرلاتعلق ہے۔

دوسری جانب شامی حزب اختلاف کے سربراہ نے مذاکرات کی ناکامی کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے یہ فی نفسہ اس لحاظ سے ایک کامیابی ہیں کہ ہم نے ایک ایسے رجیم سے بات چیت کی ہے جو خود کو اکیلا ہی شامی عوام کا نمائندہ قراردیتا رہا ہے۔

ایس این سی کے سربراہ احمد الجربا نے کہا کہ ''رجیم نے ہمارے لیے جو جال بنا تھا،اب وہ خود ہی اس میں پھنس گیا ہے اور وہ اپنا ہی جنازہ اٹھائے چل رہا ہے۔ہمارے ساتھ مذاکرات کرکے اسد رجیم نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ وہ شامی عوام کا واحد نمائندہ نہیں ہے''۔

احمدالجربا نے کہا کہ حزب اختلاف مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کرے گی۔انھوں نے شامی حکومت کے وفد پر جنیوا میں بات چیت کے دوران عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ واضح رہے کہ 30 جون 2012ء کو طے پائے جنیوا اوّل کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عبوری حکومت میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن شامی حکومت کا کہنا ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوگی۔