.

مصر:خاتون کے جنازے میں شریک ایک اخوانی ہلاک، متعدد زخمی

خاتون ایک اور واقعے میں ہلاک ہوئی تھی، پولیس سٹیشن کے باہر دھماکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخوان المسلمون کی حامی خاتون کے جنازے میں شریک اخوانیوں کو روکنے کیلیے پولیس کے طاقت کے استعمال سے ایک کارکن ہلاک اور متدد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ سکندریہ میں پیش آیا ہے ،جہاں جنازے کے شرکاء خاتون کی ہلاکت پر سکیورٹی حکام اور جنرل السیسی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

سکندریہ میں ایک پولیس سٹیشن کے باہر دھماکے کی اطلاع بھی ملی ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ البتہ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کی اطلاعات ملی ہیں۔

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی جولائی دو ہزار تیرہ کے بعد سے مصر کی سکیورٹی فورسز اخوان المسلمون کے کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹ رہی ہیں۔ اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں کو چھو چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کیخلاف لڑ رہی ہے، عام طور پر مصری فوج کے مخالفین کو دہشت گردی کے الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سکندریہ شہر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں بیسیوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

واضح رہے ان دنوں مصر میں 2011 کی عوامی تحریک کی سالگرہ کا چرچا ہے اور مظاہرین اسی جزبے کے تحت جمہوریت کی بحالی کیلیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدر بننے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔