فلسطینوں کے گھر گرانے پر اقوام متحدہ کے نمائندے کی تشویش

اسرائیل نے وادی اردن اور مغربی کنارے میں سینکڑوں فلسطینی بے گھر کر دییے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کو آرڈی نیٹر نے وادی اردن میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے فلسطینیوں کے گھر گرانے کی بہیمانہ حرکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائِیل کو مغربی کنارے میں بھی ایسی کارروائیں بند کرنی چاہیں۔

وادی اردن میں اسرائیلی کارروائی سے سینکڑوں فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس ظالمانہ کارروائی سے متاثرہ فلسطینی عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو ان ظالمانہ کارروائیوں سے روکا جائے۔

اس سے پہلے جمعرات کے روز اسرائیل کی اسی نوعیت کی کارروائیوں سے وادی اردن میں 66 فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ یہ سلسلہ وقفے وقفے سے کئی روز سے جاری ہے اور اسرائیلی پولیس اس علاقے میں فلسطینیوں کے گھروں کو ناجائز قرار دے کر گرا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندے کا کہنا ہے کہ '' اس صورتحال پر میں افسردہ ہوں کہ فلسطینیوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔'' ان کے بقول پچھلے کے مقابلے میں اس سال گرائے جانے والے گھروں کی تعداد دو گنا ہے۔

نمائندے کے مطابق '' اسرائیل کی یہ کارروائیاں فلسطینی عوام سے ان کی چھت چھیننے کے مترادف نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔"

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کو مانیٹر کرنے والے مرکز کے مطابق سال2013 میں اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں ایک ہزار فلسطینیوں کو بے گھر کیا تھا۔ بنیاد یہ بنائی گئی کہ فلسطینیوں نے اسرائیلی اتھارٹی سے اجازت نہیں لی ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسرائیلی طریقہ اجازت در حقیقت فلسطینیوں کے گھر بنانے کیلیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ایک روز قبل تین سو کی تعداد میں فلسطینی عوام اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں اسرائیلی فوراسز کے ان اقدام کیخلاف احتجاج بھی کیا تھا ۔ اس موقع پر مظاہرین نے ایسے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا '' یہودی بستیوں کے ہوتے ہوئے امن کا امکان نہیں ہو سکتا ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں