.

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ، 10 فلسطینی زخمی

فلسطینی مزدور لڑکے کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر براہ راست فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے نزدیک واقع مہاجر کیمپ میں ایک فلسطینی لڑکے کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے جلازون مہاجر کیمپ کے نواح میں فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کی ہے اور زخمیوں کو رام اللہ کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں فلسطینیوں نے شرکت کی اور ان میں سے بعض نے اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا۔

اسرائیلی فوجیوں نے بدھ کو جلازون کیمپ میں ایک انیس سالہ فلسطینی لڑکے محمد مبارک کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ وہ اس وقت یو ایس ایڈ کی مالی معاونت سے جاری منصوبے پر کام کررہا تھا۔اسرائیلی فوج نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ وہ مسلح تھا اور اس نے فوجیوں پر فائرنگ کی تھی لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ غیر مسلح تھا۔

فلسطین کے ہاؤسنگ اور پبلک ورکس کے وزیر ماہر غنیم نے فلسطینی مزدور لڑکے کے سفاکانہ قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے ہاتھ سے اشارے کررہا تھا۔اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے اس کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔

واضح رہے کہ 2013ء کے دوران اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں جارحانہ کارروائیوں میں ستائیس فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا۔ صہیونی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی یہ تعداد اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھی۔