.

"اسد حکومت دوسری جنیوا کانفرنس کی ناکامی کی ذمہ دار ہے"

دوست ممالک نے مسلح امداد کا بھی وعدہ کیا ہے: احمد الجربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کے حامی سمجھے جانے والے گیارہ ممالک پر مشتمل "دوستان شام گروپ" نے جنیوا میں شامی بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس کے پہلے دور کی ناکامی کی ذمہ داری شامی حکومت پرعائد کی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مصر، فرانس، جرمنی، اٹلی، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا پرمشتمل دوستان شام گروپ نے پیرس سے جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ "دوسری جنیوا کانفرنس میں ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کی ذمہ دار اسد رجیم ہے"۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شامی حکومت مفاہمتی مساعی اور بحران کے حل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

دوست ممالک شام کے مختلف شہروں میں خوراک اور ادویہ کی فراہمی روکنے کی حکومتی پالیسی پربھی کڑی نکتہ چینی کی۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ "ہمیں شامی رجیم کی جانب سے نہتے شہریوں کو بھوک اور قحط سے مارنے یا انہیں گھنٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے ظالما نہ کی پالیسی گہرا دکھ ہے۔ شامی حکومت معصوم شہریوں پرطاقت کا ہرحربہ استعمال کررہی ہے۔ ہمارے نزدیک مخالفین کو چن چن کرنشانہ بنانے اور عام آبادی پر بیرل بموں کے حملے یکساں قابل مذمات اقدامات ہیں"۔

دوستان شام نے دمشق اپوزیشن کے جنیوا اجلاس میں شرکت کو جرات مندانہ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی اور کہا کہ اپوزیشن کا رویہ مفاہمانہ لیکن شامی حکومت کا ہٹ دھرمی پر مشمتل ہے۔

حکومتی ٹال مٹول پر اپوزیشن کی تنقید

درایں اثناء شامی باغیوں کے نمائندہ سیاسی اتحاد "نیشنل الائنس" کے سربراہ احمد الجربا نے کہا کہ شامی حکومت جنیوا مذاکرات میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ سے تباہ حال شہروں تک امداد کی فراہمی میں بھی ٹال مٹول کا مظاہرہ کررہی ہے۔ جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں الجربا کا کہنا تھا کہ شام میں سنگین انسانی بحران کے باوجود حکومت انسانی کوری ڈور کھولنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بشار الاسد لبنان اورعراق کے جنگجو گروپوں کی مدد سے اپنے ملک میں دہشت گردی کے فروغ اور اقلیتوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر شامی حکومت شہریوں کے قتل عام کی پالیسی پر قائم رہی تو دوستان شام باغیوں کی مسلح امداد بھی کریں گے، جس کا انہوں نے وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے شامی کو اطمینان کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی مظلوم قوم کو یہ پیغام دے رہا ہوں کہ عالمی برادری کے ان سے کیے گئے وعدوں کے نفاذ کا وقت آگیا ہے۔ بشارالاسد کے پاس سیاستی مفاہمت کے سوا اب کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ الجربا نے جنیوا ٹو کے دوسرے سیشن میں بھی بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔

خیال رہے کہ دو روز قبل شامی بحران کے حل کےسلسلے میں سوئٹرز لینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے اجلاس کے پہلے دور میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔ اجلاس کے پہلے مرحلے میں شامی حکومت پر جنگ زدہ شہریوں بالخصوص یرموک کیمپ کے محصورین کو فوری خوراک اور ادویات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم بشارالاسد کے مندوبین کی جانب سے ایسی کوئی ٹھوس یقین دہانی سامنے نہیں آئی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ شامی حکومت کا وفد بے اختیار ہے، اس لیے کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔