.

اسرائیلی وزیرخزانہ نے یہودی بستیوں کے لیے فنڈز روک لیے

مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیرات کے انجماد کے دوران سرکاری رقوم میں خرد برد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیرخزانہ نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے لیے فنڈز کی منتقلی روک دی ہے اور وہاں بلدیات کی مدد کے لیے دی گئی رقوم کی ایک آبادکار نواز سیاسی گروہ کے ہاتھ لگنے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

اسرائیلی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ رقم یہودی بستیوں میں سکیورٹی اور عمارات کی مرمت کے لیے مختص کی گئی تھی اور اس کی 2009ء اور 2010ء میں یہودی بستیوں کے تعمیرمنجمد کرنے کے دس ماہ کے عرصہ کے دوران منظوری دی گئی تھی''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اس میں سے کچھ رقم غیر قانونی طور پر ییشا آبادکار کونسل کے ہاتھ لگ گئی تھی اور اس کو حکومت کی پالیسی کے خلاف سرگرمیوں سمیت سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا''۔ان الزامات کو اسرائیلی ٹیلی ویژن سے بھی نشر کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''وزیرخزانہ یائرلیپڈ نے تحقیقات مکمل ہونے تک فوری طور پر رقوم روکنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ہفتے میں خردبرد کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے''۔

ییشا کونسل کے ترجمان نے فوری طور پر اس الزام پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔اسرائیل کی وائی نیٹ نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چار سال کے دوران حکومت نے بلدیاتی اداروں کو چودہ کروڑ اسی لاکھ شیکلز (چارکروڑ بیس لاکھ ڈالرز) کی رقم دی تھی اور اس رقم کو دینے کا مقصد تعمیرات کے انجماد کے دس ماہ کے عرصہ کے دوران یہودی آبادکاروں کو پہنچنے والی مالی نقصان کا ازالہ کرنا تھا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 1967ء کی جنگ میں قبضے کے بعد تعمیر کردہ یہودی آبادکاروں کی بستیوں کو غیر قانونی قراردیتی ہے جبکہ فلسطینی ان بستیوں کو مستقبل میں اپنی مجوزہ ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جولائی 2013ء میں تین سال کے بعد امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات بحال ہوئے تھے لیکن اب تک ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے پر اصرار ہے۔

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو حال ہی میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں اور انھوں نے اس انتباہ کو نظرانداز کردیا ہے کہ یہودی آباد کاری کے جاری رہنے کی صورت میں فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات ختم ہوسکتے ہیں۔ان کی حکومت فلسطینیوں سے مذاکرات کے ساتھ ان کی سرزمین ہتھیانے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے اور وہ اس ضمن میں امریکا یا کسی اورملک کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لارہی ہے۔