.

شامی فوج کی حلب پر بیرل بمباری، 85 افراد لقمۂ اجل

33 افراد ایک ہی کالونی میں مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے کنٹرول والے علاقوں پر سرکاری فوج کے جنگی طیاروں کے بیرل بموں سے حملے میں مرنےوالوں کی تعداد پچاسی ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے جنگی طیاروں نے حلب کی مشرقی کالونیوں میں دھماکا خیز مواد سے بھرے بیرل بم برسائے ہیں۔'طریق الباب' نامی کالونی میں اس حملے میں سب سے زیادہ 33 افراد مارے گئے۔

اس سے پہلے فرات لبریشن اسلامک فرنٹ سے تعلق رکھنے والے انقلابیوں نے حلب شہر کو مشرقی مضافاتی علاقوں سے ملانے والے راستے کو القاعدہ کے جنگجووں سے آزاد کرا لیا تھا۔ محاذ نے 'داعش' نامی القاعدہ کے گروہ سے ایک بیان میں ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ جیش الحر شام کا حصہ ہیں۔

ادھر شام کے جنوبی علاقے میں سرگرم تحریک احرارالشام کے جنگجووں نے القنیطرہ کے نواح میں شامی فوج کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے حلب شہر کی جیل کا محاصرہ کرنے والے انقلابیوں کی ٹولیوں پر بیرل بم برسائے ہیں، جیل میں متعدد حکومت مخالف جنگجو قید ہیں۔ بیرل بم گرائے جانے کے بعد انقلابیوں نے جیل پر متعدد ہاون راکٹ بھی داغے۔

داعش کے 20 جنگجو لواء التوحید یعنی پرچم توحید نامی گروپ کی جانب سےشمالی حلب کے گاوں تل جیجان میں لگائی گئی گھات کارروائی میں مارے گئے۔ حمص کی الدبلان کالونی کی الحسامی مسجد پر ہونے والی راکٹ باری میں تین افراد ہلاک اور متعدد دوسرے زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ جیش الحر اور دولت اسلامیہ عراق و شام 'داعش' کے جنگجووں کے درمیان یہ جھڑپیں ایک عرصے سے جاری ہیں۔ حزب اختلاف کے اتحاد نے اپنے ایک حالیہ بیان میں داعش کے خلاف اپوزیشن فورسسز کی لڑائی میں مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ بیان کے مطابق اپوزیشن کے جنگجووں کے لئے ضروری ہے کہ وہ بشار الاسد اور انقلاب کی منزل کھوٹی کرنے والی القاعدہ اور اس کے انڈوں بچون کے خلاف جاری انقلابی جدوجہد کا دفاع کریں۔