.

اردن:ابوقتادہ سمیت اسلام پسند قیدیوں کی بھوک ہڑتال

جیل حکام کے ناروا سلوک اور فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں القاعدہ سے وابستہ متعدد اہم شخصیات سمیت اسلام پسند ایک سو بیس قیدیوں نے جیلوں میں ناروا سلوک کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کردی ہے۔

بھوک ہڑتال کرنے والوں میں برطانیہ بدری کے بعد اردن کے حوالے کیے گئے راسخ العقیدہ عالم دین ابو قتادہ اور القاعدہ کے فکری راہ نما ابو محمد المقدسی بھی شامل ہیں۔انھوں نے جیل حکام کی جانب سے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر ہفتے کے روز کھانا کھانا چھوڑ دیا تھا۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں وکلاء اور خاندان کے افراد تک بہتر رسائی دی جائے ،ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی رفتار تیز کی جائے اور تفتیش کے دوران ان سے مبینہ ناروا سلوک اور تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔

اردن کے ایک سلفی جہادی لیڈر شیخ سعد حنیتی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''قیدیوں نے بہتر سلوک سے متعلق اپنے مطالبات کی منظوری تک حکومت کی جانب سے مہیا کیے جانے والے کھانے اور خوراک کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے''۔ حنیتی کا کہنا ہے کہ ''ان افراد کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اردن بشار رجیم کی مدد کررہا ہے''۔

اردن کے پولیس ذرائع نے صواقعہ ،موقر،زرقا ، رومیمین کی جیلوں میں قید اسلام پسندوں کی بھوک ہڑتال کی تصدیق کی ہے لیکن اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے قانونی اور انسانی حقوق کی کوئی منظم انداز سے خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

سکیورٹی فورسز کے ترجمان میجر عامر السرطاوی نے کہا ہے کہ ''جیلوں میں ہرکسی کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور کسی بھی قیدی کی جانب سے درخواست کا جائزہ لیا جاتا ہے''۔

واضح رہے کہ اردن میں حالیہ مہینوں کے دوران شام کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں بیسیوں اسلام پسندوں اور جہادیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے زیادہ تر کو شام میں صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف محاذآراء مسلح جہادی گروپوں کے ساتھ شامل ہونے کے لیے سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

وکلاء اور گرفتار افراد کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ ''سرحدعبور کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیے گئے جہادیوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور ان کے خلاف ''ایک دوست ریاست کے ساتھ تعلقات میں گڑبڑ کرنے'' کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے''۔

اردن مشرق وسطیٰ میں امریکا کا اہم اتحادی ملک ہے اور وہ ان دوچار عرب ممالک میں سے ایک ہے جس نے صہیونی ریاست اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعلقات قائم کررکھے ہیں۔اردن کے مغرب کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں اور ان کی مدد سے اس چھوٹے ملک میں آئے دن القاعدہ اور دوسرے اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

انسانی حقوق کے وکلاء اور کارکنان کے مطابق اردن میں اسلام پسند جنگجوؤں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے اور اردنی حکام نے 2011ء میں سلفیوں کے خلاف اختیار کردہ نرم پالیسی کو بالکل ترک کردیا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اردن میں اسلام پسندوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے پر تنقید کی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔شہری حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے اسلام پسندوں کے خلاف مقدمات سیاسی محرکات کی بنا پر بنائے گئے ہیں۔