.

لبنانی وزیراعظم کی بم دھماکے کے بعد قومی اتحاد کی اپیل

النصرۃ محاذ کی لبنانی شاخ نے بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے نگران وزیراعظم نجیب میقاتی نے شمال مشرقی شہر الہرمل میں ہفتے کے روز خودکش بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

نجیب میقاتی نے خودکش بم حملے کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا کہ ''ایک مرتبہ پھر دہشت گرد ہاتھوں نے لبنانی علاقے کو نشانہ بنایا ہے اور بے گناہ شہریوں کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے''۔انھوں نے کہا کہ ''ہم ایک مرتبہ پھر ہرکسی سے ملک اور اس کے عوام کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں''۔

لبنان کے نامزد وزیراعظم تمام سلام نے بھی اس بم حملے کی مذمت کی ہے اور اس کو دہشت گردی کی بزدلانہ قراردیا ہے۔انھوں نے سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ بم دھماکے کی سازش میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔

شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مضبوط گڑھ الہرمل میں خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ایک پیٹرول اسٹیشن پر دھماکے سے اڑا دیا تھا اور اس بم دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔لبنان کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق بم دھماکے کی جگہ کے نزدیک ایک اسکول ہے اور ایک معروف عالم دین کے زیراہتمام ایک خیراتی ادارے کی عمارت واقع ہے۔

شیعہ اکثریتی آبادی والے اس شہر میں تین ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا بم دھماکا ہے۔شام میں صدر بشارالاسد کی مسلح افواج سے برسرپیکار القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کی لبنانی شاخ نے ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

لیکن اس گروپ کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔النصرۃ محاذ کے اسی گروپ نے گذشتہ اختتام ہفتہ پر الہرمل پر راکٹ حملے اور جنوری میں بم دھماکے کی بھی ذمے داری قبول کی تھی۔اس نے شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں حزب اللہ کی جنگ کے ردعمل میں لبنان میں بم حملوں کی دھمکی دی تھی۔

لبنانی وزیر داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک عدم استحکام سے دوچار ہے،صورت حال روزبروز بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور سب سے سنگین امر یہ ہے کہ خودکش دھماکے کرنے والے لبنانی ہی ہیں۔وزیرداخلہ کے بہ قول لبنان میں بم دھماکوں کے لیے خودکش بمبار چوری شدہ کاریں استعمال کررہے ہیں اور گذشتہ چھے ماہ کے دوران کم سے کم چار سو کاریں چوری کی جاچکی ہیں۔