.

بیروت:حزب اللہ کے گڑھ میں ایک اور دھماکا،2 افراد ہلاک

حملہ آور بمبار نے مسافر وین میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے شویفات میں ایک بمبار نے مسافر وین میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مضبوط گڑھ کے نزدیک یہ خودکش بم دھماکا سوموار کی شام کو مصروف اوقات میں ہوا ہے اور لبنانی وزیرداخلہ مروان شربل نے کہا ہے کہ خودکش بمبار ضاحیہ میں واقع حزب اللہ کے مضبوط گڑھ کی جانب جانے کی کوشش کررہا تھا۔

لبنان کے سرکاری ٹی وی نے ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں بم دھماکے میں تباہ ہونے والی منی بس اور فٹ پاتھ پر انسانی اعضاء بکھرے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ایک لبنانی سکیورٹی عہدے دار نے ایک زخمی کے حوالے سے بتایا ہے کہ خودکش بمبار نے منی بس میں سوار ہونے کے بعد پہلے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ شیعہ اکثریتی علاقے کی جانب جارہی ہے اور پھر دھماکا کردیا۔

شویفات میں دروز آباد ہیں لیکن یہ شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے سے متصل واقع ہے۔واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران بیروت کے جنوبی علاقوں میں متعدد بم دھماکے ہوئے ہیں۔یہ علاقے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ان بم حملوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شام میں حزب اللہ ملیشیا کے جنگجوؤں کی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف جنگ کے ردعمل میں کیے جارہے ہیں۔

دوروز پہلے لبنان کے شمال مشرقی شہر الہرمل میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ایک پیٹرول اسٹیشن پر دھماکے سے اڑا دیا تھا اور اس بم دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شیعہ اکثریتی آبادی والے اس شہر میں تین ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا بم دھماکا تھا۔

شام میں صدر بشارالاسد کی مسلح افواج سے برسرپیکار القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کی لبنانی شاخ نے ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔تاہم بیروت میں آج ہونے والے خودکش بم دھماکے کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی۔

النصرۃ محاذ کے اسی گروپ نے گذشتہ اختتام ہفتہ پر الہرمل پر راکٹ حملے اور جنوری میں بم دھماکے کے علاوہ بیروت میں چار بم دھماکوں کی بھی ذمے داری قبول کی تھی اور شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں حزب اللہ کی جنگ میں شرکت کے ردعمل میں لبنان میں مزید بم حملوں کی دھمکی دی تھی۔

لبنانی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں بم دھماکوں کے لیے خودکش بمبار چوری شدہ کاریں استعمال کررہے ہیں اور گذشتہ چھے ماہ کے دوران کم سے کم چار سو کاریں چرائی جا چکی ہیں۔ان کے بہ قول سب سے سنگین امر یہ ہے کہ خودکش دھماکے کرنے والے لبنانی ہی ہیں۔