.

"جان کیری گن پوائنٹ پر فلسطینیوں سے مذاکرات کرانا چاہتے ہیں"

مذاکرات کی ناکامی اسرائیل کی عالمی تنہائی پرمنتج ہو گی: کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم کی کابینہ میں شامل ایک سینیئر وزیر نے فلسطینیوں سے امن مذاکرات کرانے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ایک بیان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

وزیر برائے اسٹریٹیجک امور یووال اشٹائنٹز کا کہنا ہے کہ جان کیری 'گن پوائنٹ' پر فلسطینیوں سے مفاہمت کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قبل ازیں جان کیری نے میونخ میں عالمی امن کانفرنس سے خطاب میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل دونوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرامن مذاکرات ناکام ہوئے تو فریقین کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کامیاب بنانے کی ذمہ داری دونوں فریقوں پر ہے۔ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں توتل ابیب کوعالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان پر وزیر دفاع موشے یعلون نے بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "کیری خود کو نجات دھندہ کے روپ میں پیش کرکے امن معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

میونخ میں عالمی امن فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ مذاکرات میں اسرائیل کا معاملہ زیادہ حساس ہے۔ اگر تل ابیب نے مفاہمتی کوششوں میں تعاون نہ کیا اور بات چیت بے نتیجہ رہی تو اسرائیل بدترین عالمی تنہائی کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ فلسطین۔ اسرائیل کشمکش کا طول پکڑنا اسرائیل کے عالمی بائیکاٹ پر منتج ہوگا۔

اس پر اسرائیلی وزیر برائے اسٹریٹیجک امور کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے چھ ماہ کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ امریکا کا دباؤ صرف اسرائیل پر رہا ہے۔ امریکی طرز عمل سے لگ رہا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کو اپنے موقف پرسختی سے قائم رہنے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور بات چیت میں پیش رفت کے لیے کوئی ٹھوس دلیل بھی نہیں دی گئی۔

مسٹر یووال اشٹائٹنز کا کہنا تھا کہ جان کیری کے بیانات غیر منصفانہ ہیں۔ ان سے کسی صورت میں صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ میں بھی سب کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ بندوق کی نوک پراسرائیل سے نہ تو کوئی مذاکرات کرسکتا ہے اور نہ ہی کرا سکتا ہے۔ ہم اپنے قومی مفادات کو بہتر جانتے ہیں اور مفادات کو سامنے رکھ کر مذاکرات کریں گے"۔

البتہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے جان کیری کا نام لیے بغیر ان کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔ کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا عالمی بائیکاٹ غیر اخلاقی ہو گا جس کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات سے اسرائیل کو اپنے دفاعی حقوق سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے لیکن ہم اپنے شہریوں کو غیرمحفوظ نہیں کرسکتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر انصاف زیپی لیونی نے قدرے حقیقت پسندانہ اور محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں تسلیم کیا ہے کہ فلسطینیوں سے امن مذاکرات عالمی بائیکاٹ کی راہ میں ایک مضبوط دیوار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امن کوششیں ناکام ہوئی تو اسرائیل، جنوبی افریقا کے نسل پرستی کے دور کی طرح عالمی تنہائی کا شکار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی کمپنیاں اسرائیلی معیشت کا ایک بڑا سہارا ہیں، ان کی جانب سے ہمیں تشویشناک اشارے مل رہے ہیں۔ ان کا اشارہ ہالینڈ اور ڈنمارک کی بعض کمپنیوں کی جانب تھا جنہوں نے حال ہی میں مقبوضہ علاقوں میں تیار ہونے والی اسرائیلی مصنوعات اور اسرائیلی بینکوں سے لین دین کا بائیکاٹ کیا ہے۔