.

داعش نے شام میں اپنا ویمن بریگیڈ بھی تشکیل دے دیا

مسلح خواتین کی الرقہ میں گشت؛ خواتین کی تلاشی، گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث سمجھی جانے والی مملکت اسلامیہ عراق وشام [داعش] نے شام کے محاذ جنگ پر کارروائیوں کے لیے خواتین کا ایک بریگیڈ بھی تشکیل دے دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کا خواتین ونگ شامی شہر الرقہ میں قائم کیا گیا ہے۔ الرقہ شہر میں "سیریا لبریشن" کے نام سے قائم ایک ابلاغی گروپ کے نامہ نگار ابو ابراہیم الرقاوی نے خواتین بریگیڈ کے بارے میں تصاویر اور معلومات فراہم کی ہیں۔

ابراہیم الرقاوی کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق شہرمیں کالے برقعوں میں ملبوس نقاب پوش بندوق بردار خواتین بندوقیں سڑکوں پر کھلے عام خواتین کی تلاشی لیتی اور ان کی تفتیش کرتی دکھائی گئی ہیں۔

ابراہیم الرقاوی نے بتایا کہ داعش کے ویمن بریگیڈ کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ ایک ناکام "ام الخنساء" بریگیڈ رکھا گیا ہے جبکہ دوسرے کو "ام ریان" کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اسی شہرمیں گذشتہ ہفتے "المشلب" اور "السباھیہ" چیک پوسٹوں کے قریب نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں داعش کے سات عناصر قتل اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ حملہ آور بھی نقاب پوش تھے اور ان میں کچھ نے خواتین کے کپڑے پہن رکھے تھے، لیکن ان کی کارروائی سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ خواتین نہیں ہیں۔ اس کارروائی کے بعد "داعش" نے اپنا ویمن بریگیڈ تشکیل دیا ہے۔ مقامی سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ الرقہ شہر میں جو بھی بے پردہ خاتون دکھائی دیتی ہے "داعش" کی خواتین اسے گرفتار کرلیتی ہیں۔

خواتین جنگجوؤں کا 200 ڈالر معاوضہ

ابراہیم الرقاوی اور بعض دوسرے سماجی کارکنوں کی جانب سے فراہم کردہ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ الرقہ شہر میں "داعش" کے خواتین بریگیڈ میں کئی غیر ملکی خواتین بھی شامل ہیں۔ باہرسے آنے والی خواتین کو دو سو ڈالر ماہانہ معاوضہ بھی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم مقامی خواتین کو صرف اسلحہ دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق "ام خنساء بریگیڈ" اور "ام ریان" بریگیڈ میں چیچن، تیونسی اور یمنی جنگجو خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے بیشترغیر شادی شدہ ہیں جنہوں نے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے جبکہ کئی طلاق یافتہ اور بعض کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ بیرون ملک سے الرقہ میں آنے والی ان خواتین میں فصیح عربی اور دوسری زبانیں بولنے والی بھی شامل ہیں۔

سماجی کارکنوں اور انقلابیوں کے قریب سمجھے جانے والے ابلاغی اداروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے داعش نے الرقہ میں کارروائی کرکے"خذیفہ بن الیمان" کے عناصر کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا اوران کے مبینہ ٹھکانے پر بیرون ملک سے آئی خواتین جنگجوؤں کو ٹھہرایا گیا۔

واضح رہے کہ خذیفہ بن الیمان بریگیڈ نے بھی "داعش" کے ہاتھ پر بیعت کی تھی مگر دونوں تنظیموں کے درمیان بعض معاملات میں اختلافات کے باعث سات دن تک خون ریز لڑائی بھی ہوتی رہی ہےجس کے بعد خذیفہ بن یمان بریگیڈ کے عناصر شہر سے نکل گئے تھے۔ ابراہیم الرقاوی نے بتایا کہ اتوار کے روز "داعش" کے جنگجوؤں نے "ابو الیث" اور "ابومصعب" بریگیڈ کے دو اہم کمانڈر گرفتار کیے ہیں۔

یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ الرقہ میں "داعش" کی خواتین جنگجوؤں کی اصل تعداد کتنی ہے تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ چند دن قبل خواتین اور مردوں سے بھری چار بسیں شہرمیں پہنچی تھیں، جو بعد ازاں داعش کے ٹھکانوں میں داخل ہوگئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام جنگجو بیرون ملک سے داعش میں بھرتی ہو کر وہاں آئے تھے۔