.

بغداد: مختلف دھماکوں میں سات ہلاک، انبار میں فوجی پیش قدمی

کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد کے گردو نواح میں مختلف کارروائیوں کے دوران کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم سرکاری افواج کو صوبہ انبار میں منگل کے روز قدرے پیش قدمی کی ہے۔

صوبہ انبار میں پچھلے کئی ہفتوں سے سرکاری افواج کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ صوبے کے اہم شہروں رمادی اور فلوجہ میں القاعدہ نے اپنی پوزیشن مستحکم کر کے دونوں شہروں کے بعض حصوں سے عملا بے دخل کر رکھا ہے۔

پچھلے ماہ ان علاقوں میں ایک ہزار کے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ماہ جنوری میں ہونے والی حلاکتیں گزشتہ چھ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔

منگل کے روز بغداد کے قریب بمباری میں سات لوگ مارے گئے۔ جبکہ راکٹوں کے حملے سے بغداد کا مرکزی علاقہ گرین زون بھی متاثر ہوا ہے۔ واضح رہے اسی علاقے میں عراقی پارلیمنٹ اور امریکی سفارت خانہ قائم ہے۔

مغربی بغداد میں ایک مارکیٹ کے قریب کار بم دھماکے سے چار افراد ہلاک ہو گئے۔ جبکہ شہر کے دوسرے حسوں میں ہونے والے دھماکوں سے مزید دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک روز پہلے بغداد کے قریب میں 28 ہلاکتیں ہو گئی تھیں۔ تاہم ان واقعات کی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ سنی عسکریت پسندوں اور القاعدہ پر اس نوعیت کے واقعات کی ذمہ داری عاید کی جاتی ہے۔