.

شامی کیمیائی ہتھیار، بڑا حصہ فروری میں ساحل پر ہوگا، روس

شام نے تمام کیمیائی ہتھیاروں کی مارچ میں منتقلی کا بھی اعلان کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں ماہ کے دوران کیمیائِی ہتھیاروں کی ایک بڑی شپمنٹ اپنے سال سے روانہ کر دے گا جبکہ ماہ مارچ میں تمام کیمیائی ہتھیار تلفی کیلیے لزاکیہ کے ساحل پر منتقل کت دیے جائیں گے۔ یہ بات روسی نائب وزیر خارجہ گنادی گاتیکوف نے بتائی ہے۔

روسی نائب وزیر خارجہ کے مطابق شام نے اس امر کا اعلان ایک روز پہلے کیا ہے۔ اس اعلان کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کا بڑا حصہ ماہ فروری میں ساحل پر ہو گا اس مقصد کیلیے شام یکم مارچ تک سارا کام مکمل کرنے کو تیار ہے۔

شامی ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق ابتدائی معاہدہ پچھلے سال ستمبر میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا۔ جبکہ اس معاہدے کو عملی شکل دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور نیٹو فورسز کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کیلیے اپنی تیاری مکمل کر چکی ہیں۔

اس بارے میں نیٹو جنرل کا کہنا ہے'' بین الاقوامی برادری، نیٹو اراکین اور امریکا کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کیلیے تیار ہیں۔'' انہوں نے کہا '' ہم اس ایشو سے نمٹنے کیلیے ضروری تیاری کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہم شام کی طرف سے طے شدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق اور بروقت کیمیائی ہتھیاروں کیلیے فراہم کرنے حوصلہ افزائی کریں گے، تاکہ ہم ٹاسک مکمل کر سکیں۔''

واضح رہے ان کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا نظام الاوقات پچھلے سال طے کیا گیا تھا۔ اس نظام الاوقات کے مطابق 1300 میٹرک ٹن ٹاکزک کا ذخیرہ 31 دسمبر 2013 تک شام سے منتقل کیا جانا تھا۔ لیکن ناقص سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ ہوا تھا۔

اب تک اس خطرناک مواد کی صرف دو شپمنٹس شام سے منتقل ہو سکی ہیں۔ جنرل فلپ بریڈ لو نے زور دیا کہ ''ان ہتھیاروں کی منتقلی کیلیے کم وقت لگا چاہیے تاکہ ان کی موجودگی سے کم سے کم خطرہ ہو۔''

اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام کے صدر کو انتباہ کیا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے سلسلے میں بین الاقوامی برادری سے کیے گئے معاہدے پورے نہ کیے تو انہیں مضمرات کا سامنا کرنا پڑے۔''