.

مصر کا قطر سے ''بھگوڑوں'' کو حوالے کرنے کا مطالبہ

علامہ یوسف قرضاوی اور دیگر اخوانی لیڈروں کو حوالے نہ کرنے پر قطر پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی وزارت خارجہ نے منگل کو قاہرہ میں متعین قطری سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اور ان سے دوحہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے ''اسلام پسند بھگوڑوں'' کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان بدرعبدالعاطی نے قاہرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''قطری سفارت کار سے مصری فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے ناقدین کو حوالے کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ان میں مصری نژاد معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی بھی شامل ہیں''۔

ترجمان نے کہا کہ شیخ یوسف القرضاوی کے حالیہ بیانات بالکل ناقابل قبول ہیں جن میں انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے مصر کی فوجی حکومت کی حمایت غلط ہے اور اس کو اس حمایت سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ترجمان نے علامہ یوسف قرضاوی اور اخوان المسلمون کے لیڈروں کو مصر کے حوالے نہ کرنے پرقطر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مصر نے قطر اور دوحہ میں قائم الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل پر اخوان المسلمون کی حمایت کا الزام عاید کیا ہے۔واضح رہے کہ الجزیرہ سے تعلق رکھنے والے تین صحافیوں آسٹریلوی پیٹر گریسٹے ،مصری نژاد کینیڈین محمد فہمی اور مصری بحرمحمد کو مصری حکام نے 29 دسمبر کو گرفتار کر لیا تھا اور وہ اب تک زیر حراست ہیں۔ان کے خلاف اب ملک کی قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں مقدمہ چلانے کی تیاری کی جارہی ہے۔

مصری نژاد علامہ قرضاوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی 2013ء کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی شدید مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔وہ قطر کے سیٹلائٹ چینل الجزیرہ پر باقاعدہ مذہبی موضوعات پر تقریریں کرتے رہتے ہیں اور انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں مصریوں پر زوردیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مرسی کو ان کے آئینی عہدے پر بحال کرائیں۔

علامہ قرضاوی کی اس وقت عمر چھیاسی برس ہے۔وہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پانچ عشرے قبل سابق صدر جمال عبدالناصر کے دور میں انھیں حکومت پر تنقید کی پاداش میں آبائی وطن کی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا اور وہ تب سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں رہ رہے ہیں۔

جمال عبدالناصر کے دورحکومت میں اخوان المسلمون کی قیادت اور کارکنان پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑے گئے تھے اور علامہ قرضاوی کو 1950ء کے عشرے میں کئی مرتبہ جیل میں ڈالا گیا تھا جس کے بعد وہ 1961ء میں مصر سے ہجرت کرکے قطر چلے گئے تھے۔

وہ فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی عوامی احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کے معاً بعد اپنے آبائی وطن لوٹے تھے اورانھوں نے پورے پچاس سال کے بعد پہلی مرتبہ اپنی آبائی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔انھوں نے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں ہزاروں افراد کے اجتماعات سے خطابات کیے تھے اورنمازوں میں ان کی امامت کی تھی۔