ہولو کاسٹ کے بارے میں ایرانی موقف تبدیل

ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہییں، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے ہولو کاسٹ کے بارے میں اپنے دیرینہ موقف کو تبدیل کر تے ہوئے جنگ عظیم دوم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کی قتل و غارت کو عملا تسلیم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہییں۔

اس امر کا اظہار ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے میونخ میں بین الاقوامی سلامتی کے مو ضوع پر ہونے والی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا گیا ہے۔ مبصرین نے اس واضح تبدیلی کو پچھلے سال ماہ جون میں ڈاکٹر روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد پالیسی کی تبدیلیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

جواد ظریف نے اپنی تقریر میں کہا '' ہم قطعی طور پر یہودیوں کے خلاف ہیں اور نہ ہی کسی سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔'' تاہم انہوں نے دو ٹوک کہا '' اسرائیل ساٹھ برسوں سے فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔''

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ''جنگ عظیم دوم میں یہودیوں کے ساتھ پیش آنے والا المیہ دوبارہ پیش نہیں آنا چاہیے۔'' واضح رہے اس دوران اسرائیلی وزیر موشے یعلون بھی کانفرنس میں موجود تھے۔ جنہوں نے پوری توجہ سے ایرانی وزیر خارجہ کے خیالات سنے۔

جواد ظریف اس سے پہلے ماہ ستمبر میں اے بی سی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹر ویو میں بھی ایرانی رہبت علی خامنہ ای کے پہلے سے اختیار کردہ موقف کے برعکس پالیسی کا اشارہ دیا تھا۔

ظریف نے انٹرویو میں ہولوکاسٹ کو ایک قتل عام کا نام دے کر ایک ''ہولناک جرم'' کہا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا ہولو کاسٹ ایک متھ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی متھ کا ذکر کرتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے جرمنی کے دورے کے موقع پر اس سے پہلے ایک مرتبہ کہا تھا '' ایران کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں