.

اسرائیلی عدالت کا فوج کو 'دیوار فاصل' کے لیے جواز فراہم کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے وزارت دفاع کو حکم دیا ہے کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں "بتیر" اور "وادی کریمزان" میں یہودی کالونیوں کی حفاظت کی غرض سے بنائی جانے والی دیوار فاصل کے راستے کا آئینی جواز فراہم کرے۔

عدالت کی جانب سے جاری ایک فیصلے میں وزارت دفاع اور مسلح افواج سے کہا گیا ہے کہ وہ 27 فروری تک عدالت کے سامنے جواز پیش کریں کہ بیت المقدس کے جنوب مغرب میں فلسطینی قصبے "بتیر" کی اراضی کو دیوار فاصل کے لیے استعمال کرنا کیوں ضروری ہے، نیز یہ آیا اس کا راستہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے؟.

خیال رہے کہ مغربی کنارے کا "بتیر" قصبہ تاریخی اہمیت کا حامل اہم ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ رومن دور حکومت میں نظام آب پاشی اور زراعت کا مرکز تھا، جس کی باقیات آج بھی موجود ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کے ادارے "سائنس ثقافت اور عالمی انسانی ورثہ "[یونیسکو] نے بتیر" کو انسانی ورثے کا حصہ قرار دے رکھا ہے۔

حال ہی میں ایک "مشرقی وسطیٰ ۔ لینڈ فرینڈز" نامی ایک گروپ نے اسرائیلی محکمہ ماحولیات کے تعاون سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ "بتیر" میں دیوار فاصل کی تعمیرسے علاقے کے ماحول پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے لہذا عدالت اس علاقے میں دیوار فاصل کی تعمیر رکوائے یا اس کا راستہ تبدیل کرانے کا حکم دے۔

عدالت نے اسی نوعیت کے ایک دوسرے فیصلے میں غرب اردن کے جنوب میں بیت جالا کے قریب وادی کریمزان میں دیوار فاصل کے لیے متعین کردہ جگہ سے متعلق 10 اپریل تک وضاحت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ وادی کریمزان انگور اور زیتون کی پھلوں سرزمین قرار دی جاتی ہے۔ یہاں پرکاشت کیے جانے والے انگوروں سے شراب کشیدگی کی جاتی اور ملک کے مختلف شہروں میں سپلائی کی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے سنہ 2004ء میں اپنے ایک تفصیلی فیصلے میں فلسطین کے مقبوضہ شہروں میں یہودی بستیوں کی حفاظت کے لیے اسرائیل کے دیوار فاصل کے منصوبے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جنرل اسمبلی بھی دیوار فاصل کوغیر قانونی قرار دے چکی ہے، لیکن اس مخالفت کے علی الرغم اسرائیل دیوار کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ دیوار فاصل کی تعمیر کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر بنائی گئی یہودی بستیوں کو تو تحفظ ملا ہوگا مگر اس نے فلسطینی عوام کو ایک نئے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔