.

بغداد میں گرین زون کے نزدیک کار بم دھماکے ،22 افراد ہلاک

وزارت خارجہ کے باہر بارود سے بھری دوکاریں دھماکے سے اڑا دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں انتہاِئی سکیورٹی والے قلعہ نما گرین زون کے نزدیک تین کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی حکام کے مطابق بارود سے بھری دو کاریں وزارت خارجہ کے بالمقابل پارک کی گئی تھیں۔تیسری کار میں ایک خودکش بمبار سوار تھا اور اس نے گرین زون کی جانب جانے والی شاہراہ کے نزدیک واقع ایک ریستوراں کے باہر اس کو دھماکے سے اڑا دیا۔ایک اور بم دھماکا بغداد کے وسط میں واقع خولانی اسکوائر کے نزدیک ہوا ہے۔

ان بم دھماکوں سے دوروز قبل ہی گرین زون میں دو راکٹ فائر کیے گئے تھے۔بغداد میں ان حالیہ بم حملوں کے بعد وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے بارے میں اس رائے کو تقویت ملے گی کہ وہ امن وامان کو برقرار رکھنے اور شورش پسند عناصر پر قابو پانے کی اہلیت سے محروم ہوتی جارہی ہے۔

ادھر مغربی صوبہ الانبار میں عراقی سکیورٹی فورسز اور القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔دولت اسلامی عراق وشام سے وابستہ جنگجوؤں نے اس صوبے کے دوبڑے شہروں رمادی اور سامراء میں اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کررکھا ہے اور عراقی فورسز اب تک ان دونوں شہروں کا کنٹرول واپس لینے میں ناکام ہیں۔

عراقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں جنوری میں تشدد کے واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ عراق کی تین وزارتوں صحت ،داخلہ اور دفاع کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنوری میں کل 1013 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان میں 795 عام شہری ،122 فوجی اور 96 پولیس اہلکار شامل ہیں۔