.

شامی ہتھیاروں کی تلفی کی دوسری ڈیڈلائن بھی گزر گئی

شام یکم مارچ تک تمام کیمیائی ہیتھاربیرون ملک منتقل کردے گا:روسی نائب وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اپنے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے مقرر کردہ دوسری ڈیڈلائن پر بھی پورا اترنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرہ کو تلف کرنے کے لیے بیرون ملک منتقل نہیں کیا ہے۔

امریکا اورروس کے درمیان ستمبر 2013ء میں طے شدہ معاہدے کے تحت شام کے قریباً سات سو ٹن خطرناک ترین کیمیائی ہتھیار 31 دسمبر تک تباہ کرنے کے لیے ملک سے باہر منتقل کیے جانے تھے اور باقی پانچ سو ٹن کم خطرناک ہتھیاروں کو (آج) بدھ پانچ فروری تک منتقل کیا جانا تھا۔

لیکن شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی جانب سے حائل بعض رکاوٹوں اور دیگر وجوہ کی بنا پر ایسا نہیں ہو سکا ہے اور اب تک کیمیائی ہتھیاروں کی صرف دو چھوٹی کھیپیں ہی شام سے باہر منتقل کی جاسکی ہیں۔یہ شام کے اعلان کردہ کیمیائی ہتھیاروں کی کل مقدار کا صرف چار فی صد ہیں۔

روس کے نائب وزیرخارجہ گیناڈی گیٹلوف نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شام اسی ماہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی بڑی کھیپ کو بحری جہازوں کے ذریعے بیرون ملک منتقل کردے گا اور یکم مارچ تک یہ تمام کام مکمل ہوجائے گا۔

اس کے بعد شام کے بیرون ملک منتقل کیے جانے والے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو اپریل تک ٹھکانے لگایا جائے گا اور باقی ہتھیاروں کو جون تک تلف کیا جائے گا۔تاہم ان کم خطرناک ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے حوالے بھی کیا جا سکتا ہے۔

شام نے گذشتہ ہفتے ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو)کے ڈائریکٹر جنرل احمد ازمچو کو بعض سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا ہے لیکن اس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کو جلد سے جلد ٹھکانے لگانا چاہتا ہے۔

شام کی بندرگاہ اللاذقیہ سے ڈنمارک اور ناروے کے مال برادر بحری جہازوں کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کو اٹلی کی بندرگاہ جیویا تورو پر لنگر اندز کیپ رے پر منتقل کیا جارہا ہے۔کیپ رے پر دو ہائیڈرالسیس سسٹمز مشینیں نصب ہیں۔ان میں شام کے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو پانی اور دوسرے کیمیکلز کے آمیزے کے ساتھ ملایا جائے گا اور پھر انھیں تلف کرنے کے لیے دوسرے ممالک یا اداروں کے حوالے کردیا جائے گا۔ اوپی سی ڈبلیو کے مطابق چودہ تجارتی کمپنیوں نے کم خطرناک اور کم ترجیح والے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کی پیش کش کی تھی۔تنظیم اب ان کی پیش کشوں کا جائزہ لے رہی ہے۔