.

مصر کا قطر کو اخوان المسلمون کی حمایت پر انتباہ

قطر کے ساتھ اختلافات معمول سے بڑھتے جارہے ہیں:حازم الببلاوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی نے کہا ہے کہ ان کا ملک قطر کے ساتھ تنازعے کو بڑھانا نہیں چاہتا لیکن اس کی جانب سے اپنے داخلی امور میں براہ راست مداخلت پر خاموش نہیں رہے گا۔

حازم الببلاوی بدھ کو سعودی دارالحکومت ریاض میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ''قطر ایک عرب ملک ہے اور ایک خاندان کے ارکان کے درمیان بھی اختلافات ہوسکتے ہیں۔ہم اپنے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن بعض ایسے اعمال کیے جارہے ہیں جنھیں غیر منصفانہ اور غیر دیانتدارانہ کہا جاسکتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''قطر کے ساتھ اختلافات معمول سے بڑھتے جارہے ہیں''۔عبوری وزیراعظم کے قطر کے خلاف اس سخت بیان سے ایک روز قبل مصر کی وزارت خارجہ نے قاہرہ میں متعین قطری سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا تھا اور ان سے دوحہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے''اسلام پسند بھگوڑوں'' کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان بدرعبدالعاطی نے قاہرہ میں نیوزکانفرنس میں بتایا کہ ''قطری سفارت کار سے مصری فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے ناقدین کو حوالے کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ان میں مصری نژاد معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی بھی شامل ہیں''۔

ترجمان نے کہا کہ شیخ یوسف القرضاوی کے حالیہ بیانات بالکل ناقابل قبول ہیں جن میں انھوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے مصر کی فوجی حکومت کی حمایت غلط ہے اور اس کو اس حمایت سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ترجمان نے علامہ یوسف قرضاوی اور اخوان المسلمون کے لیڈروں کو مصر کے حوالے نہ کرنے پر قطر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مصر نے قطر اور دوحہ میں قائم الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل پر اخوان المسلمون کی حمایت کا الزام عاید کیا ہے۔مصری نژاد علامہ قرضاوی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں 3 جولائی 2013ء کو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی شدید مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔

انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں مصریوں پر زوردیا تھا کہ وہ ڈاکٹر مرسی کو ان کے آئینی عہدے پر بحال کرائیں۔مصری حکومت نے ان کے خلاف 2011ء میں جیل کو توڑنے میں معاونت کے الزام میں مقدمہ قائم کررکھا ہے۔اسی الزام میں ڈاکٹر محمد مرسی اور اخوان کے دوسرے لیڈروں کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر قرضاوی فروری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی عوامی احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کے معاً بعد اپنے آبائی وطن لوٹے تھے اورانھوں نے پورے پچاس سال کے بعد پہلی مرتبہ اپنی آبائی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔انھوں نے قاہرہ کے مشہور میدان التحریر میں ہزاروں افراد کے اجتماعات سے خطابات کیے تھے اورنمازوں میں ان کی امامت کی تھی۔ان کی یہ آمد ہی ان کے خلاف مقدمے کا موجب بنی تھی۔