.

شامی باغیوں کا حلب جیل پر قبضہ، سیکڑوں قیدی رہا کردیے

باغیوں اور النصرۃ محاذ پر مشتمل اتحاد کی حلب میں اسدی فوج کے خلاف بڑی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں نے شمالی شہر حلب کی سنٹرل جیل کے بیشتر حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں قید سیکڑوں افراد کو رہا کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''احرارالشام اور النصرۃ محاذ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے حلب جیل کے اسی فی صد حصے پر کنٹرول کرلیا ہے اور انھوں نے وہاں سے سیکڑوں قیدیوں کو رہا کردیا ہے۔جیل میں باغیوں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان لڑائی ابھی جاری ہے''۔

شامی باغیوں کے اتحاد نے جمعرات کو صوبہ حلب میں سرکاری فوج کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔اس صوبے میں شامی فوج نے گذشتہ ہفتے کے روز سے بیرل بموں کے حملوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جن کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

باغی جنگجوؤں اور القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ پر مشتمل اتحاد اسلامی محاذ نے سرکاری فوج کے خلاف اپنی اس مشترکہ کارروائی کو ''سچا وعدہ'' کا نام دیا ہے۔ان باغی گروپوں نے ایک بیان میں تمام جنگجوؤں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ٹھکانوں سے نکل کر لڑائی کے لیے اگلے محاذوں پر پہنچ جائیں ،ورنہ ان کا مواخذہ کیا جائے گا۔

بیان میں ''مقبوضہ علاقوں'' کے مکینوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری فوج کے چیک پوائنٹس اور اڈوں سے دور رہیں کیونکہ انھیں حملوں میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ شامی فوج گذشتہ دوماہ سے حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بیرل بموں سے بمباری کررہی ہے جس سے باغی جنگجو پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے اور شامی فوج کو ان کے کنٹرول والے علاقوں میں پیش قدمی کا موقع مل گیا۔

آبزرویٹری کے مطابق گذشتہ پانچ روز میں بیرول بموں کے فضائی حملوں میں 246 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں 73 بچے شامل ہیں۔آج شامی فوج نے سات حملے کیے ہیں جن میں چودہ افراد مارے گئے ہیں۔

درایں اثناء شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے وسطی شہر حمص کے محصور علاقوں سے شہریوں کے انخلاء کے لیے ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔حمص کے گورنر طلال برازی کے بہ قول ان کا یہ سمجھوتا اقوام متحدہ کے ساتھ طے پایا ہے اور اس کے تحت شہریوں کا بہت جلد انخلاء کیا جائے گا لیکن سرکاری ٹی وی نے اس سمجھوتے کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔