.

قاہرہ میں بوسنیائی سفیر سے رابعہ نشان پر جواب طلبی

بوسنیائی لیڈر کی اخوان کے وفد کے ساتھ تصویر پر مصر سیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت اخوان المسلمون کی مخالفت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور اب اس نے اخوان کے لیڈروں کی آؤ بھگت کرنے والے ممالک کے سفیروں کو طلب کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔

مصر کی وزارت خارجہ نے منگل کو بوسنیا کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اور ان سے ایک معروف سیاست دان کی جانب سے رابعہ کا نشان بنانے پر جواب طلبی کی ہے۔

مصری روزنامے الاہرام کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان بدرعبدالعاطی نے نیوزکانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ اعتراض پر مبنی ایک یادداشت بوسنیائی سفیر کے حوالے کی گئِی ہے۔

یہ یادداشت بوسنیائی سیاست دان باقر عزت بیگووچ کی ایک تصویر کے بعد دی گئی ہے۔اس میں وہ سرائیوو میں اپنے دفتر میں اخوان المسلمون کے ایک وفد کا استقبال کررہے ہیں۔اس دوران انھوں نے رابعہ کا نشان بنایا ہوا ہے۔

عربی میں رابعہ کا مطلب چار ہے۔قاہرہ کے رابعہ العدویہ چوک میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد اخوان المسلمون کے حامیوں نے دوماہ تک دھرنا دیے رکھا تھا اور مصری سکیورٹی فورسز نے اس دھرنے کو ختم کرانے کے لیے اگست 2013ء میں خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے بعد ہاتھ کی انگلیوں سے رابعہ کا نشان مصر کی مسلح افواج کے خلاف اخوان کی مزاحمتی تحریک کی علامت بن گیا تھا۔اس کے بعد سے پیلے رنگ کے پس منظرمیں سیاہ رنگ کے ہاتھ والے پرچم اب احتجاجی ریلیوں میں لہراتے نظر آتے ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی وزارت خارجہ نے قاہرہ میں متعین قطری سفارت خانے کے ناظم الامور کو بھی منگل کو طلب کیا تھا اور ان سے دوحہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے''اسلام پسند بھگوڑوں'' کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔