.

السیسی صدارتی انتخاب لڑنے کا خود اعلان کریں گے

کویتی اخبار نے صدارت کے لیے امیدواری کی غلط تشریح کی ہے:فوجی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج کا کہنا ہے کہ کویتی اخبار نے آرمی چیف عبدالفتاح السیسی کے انٹرویو کی غلط تشریح کی ہے۔اس اخبار نے لکھا ہے کہ فیلڈ مارشل السیسی صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مصری فوج کے ترجمان کرنل احمد علی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''کویتی اخبار السیاسیہ نے جو کچھ شائع کیا ہے،وہ ایک صحافتی تعبیر وتشریح ہے لیکن یہ فیلڈ مارشل سیسی کا براہ راست اعلان نہیں ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ سیسی بہ ذات خود صدارتی انتخاب لڑنے کے فیصلے کا عوام کے سامنے واضح اور کھلے الفاظ میں اعلان کریں گے اور یہ اعلان کوئی اور نہیں کرے گا۔

السیاسہ نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں السیسی کے انٹرویو کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ آیندہ صدارتی انتخاب میں امیدوار ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ ''ان کے پاس مصری عوام کی خواہشات پر پورا اترنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں مطالبے کو مسترد نہیں کروں گا۔میں اس کو مصری عوام کے سامنے پیش کروں گا اور آزادانہ انتخابات میں اعتماد کی تجدید کی کوشش کروں گا''۔تاہم مصری فوج کی جانب سے سرکاری طور پر اس بات کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ سیسی صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔

فیلڈمارشل سیسی نے کویتی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''ہم عوام کے خوابوں کے ساتھ نہیں کھیلیں گے یا انھیں یہ نہیں کہیں گے کہ ہمارے پاس جادو کی کوئی چھڑی ہے بلکہ ہم انھیں یہ کہیں گے کہ وہ نو کروڑ کی آبادی کے ملک کو آگے لے جانے کے لیے ہمارے ساتھ مل جل کر کام کریں''۔

واضح رہے کہ مسلح افواج کی سپریم کونسل نے اگلے روز ''فیلڈ مارشل'' عبدالفتاح السیسی کو عظیم مصری عوام کی خواہش کے احترام میں اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔اس طرح ایک مرتبہ پھر مصر میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف برپا شدہ عوامی انقلاب کے ٹھیک تین سال بعد مطلق العنان حکمرانی کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

سپریم کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ''عبدالفتاح السیسی کو عوام کی حمایت حاصل ہے اور ان کی صدارتی انتخاب کے لیے نامزدگی دراصل ان کا مینڈیٹ اور ایک ذمے داری ہے''۔59 سالہ مصری آرمی چیف اور وزیردفاع اب آیندہ چند روز میں اپنے صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان کردیں گے۔

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013 ء کو ملک کی تاریخ کے پہلے منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ان کے اس اقدام کے خلاف اب تک مصر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

فوج کی نگرانی میں قائم عبوری حکومت کے ملک کی سابق حکمراں اور سب سے منظم دینی و سیاسی قوت اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایک ہزار سے دو ہزار افراد مارے جاچکے ہیں،اخوان کی تمام قیادت سمیت دوہزار سے زیادہ سیاسی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں مذہبی ،لبرل ،سیکولر ،انسانی حقوق کے علمبردار وغیرہ ہر طرح کے کارکنان شامل ہیں۔