حلب کی سینٹرل جیل پر باغیوں کا قبضہ، سیکڑوں قیدی چھڑا لیے

حکومت کی جانب سے جیل پر قبضے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام میں انقلابی کارکنوں کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حلب شہر کی سینٹرل جیل کےایک حصے پر باغیوں کی نمائندہ "جیش الحر" نے قبضہ کرلیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان حلب سینٹرل جیل کے آس پاس گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ جیش الحر نے جمعرات کے روز جیل کی پہلی بلڈنگ پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا تھا جس کے بعد جیل کے بقیہ حصے کی طرف پیش قدمی شروع کردی گئی تھی۔ سرکاری فوج کی جانب سے باغیوں پر فضائی حملوں کے نتیجے میں انہیں پیش قدمی میں قدرے مشکل کا سامنا ہے۔

دوسری جانب شامی حکومت نے حلب سینٹرل جیل پر باغیوں کے قبضے کی اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔ سرکاری موقف میں بتایا گیا ہے کہ مسلح افواج کو حلب سینٹرل جیل پر مسلح حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن باغیوں کو پسپا کردیا گیا ہے۔

ادھرانسانی حقوق کے ادارے "سیرین آبزرویٹری" کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جیش الحر نے حلب سینٹرل جیل پرحملے کے بعد جیل میں قید سیکڑوں افراد کو چھڑا لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق باغی فوج نے جیل کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا ہے لیکن سرکاری ٹیلی ویژن نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے۔

انسانی حقوق آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ القاعدہ سے وابستہ گروپ "النصرہ فرنٹ" اور شام فریڈم موومنٹ نے حلب سینٹرل جیل کے 80 فی صد حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سیکڑوں قیدیوں کو چھڑا لیا ہے۔ جیل کے بقیہ حصے پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ میں حلب جیل پر باغیوں کے قبضے کی خبرکو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہماری بہادر افواج اور جیل کے حفاظتی عملے نے دہشت گردوں کے ایک گروپ کے حملے کو ناکام بنا دیا ہے اور باغی بھاری جانی نقصان کے بعد پسپا ہوگئے ہیں۔

درایں اثناء سفارتی محاذ پراقوام متحدہ اور شامی حکومت نے حمص کا محاصرہ توڑنے اور متاثرہ شہریوں تک خوراک اور دیگر سامان کی ترسیل پراتفاق کیا ہے۔ عالمی ادارے اور دمشق کے درمیان یہ اہم پیش رفت ہے تاہم سرکاری فوج کی جانب سے گولہ باری بھی بدستور جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پچھلے تین روز میں حمص اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بیرل بم حملوں میں کم سے 257 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق حمص کے گورنر طلال البرازی اور شام میں اقوام متحدہ کے مندوب یعقوب الحلو کے درمیان حمص کے محصور مقامات تک امداد کی فراہمی اور شہریوں کو نکالنے میں مدد فراہم کرنے پراتفاق ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت بے گناہ شہریوں کو حمص کی قدیم کالونیوں سے نکالنے اور انہیں محفوظ مقامات تک پہنچانے میں ہرممکن مدد فراہم کرے گی تاہم باغیوں کے ساتھ ایسی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

خیال رہے کہ سرکاری فوج نے حمص کے قدیم شہروں اور کالونیوں کا پچھلے 600 دنوں سے محاصرہ کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین، بچے اورمعمر افراد بھوک، بیماریوں اور سردی سے مر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں