ایرانی رہبر کی روحانی پالیسیوں کیلیے تائید و حمایت

مخالفین تحمل کا مظاہرہ کریں، اس مدبر کو وقت ملنا چاہیے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اعتدال پسد صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے ان کے مخالفین سے بردباری اور تحمل اختیار کرنے کیلیے کہا ہے۔ ایرانی صدر روحانی کے مخالفین انہیں جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کیساتھ مذاکرات کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنا تے ہیں۔

سپریم لیڈر نے صدر روحانی پر اپنے اعتماد کا اعادہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ اطمینان بخش مذاکرات کے دور کے بعد کیا ہے۔ اس سے پہلے ایران 24 نومبر 2013 کو ابتدائی جوہری معاہدے پر اتفاق کی صورت میں اپنے خلاف عاید پابندیاں نرم کرا کے اربوں ڈالر کا فائدہ اٹھا چکا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے براہ راست ان اختلافات کا حوالہ دیے بغیر کہا '' روحانی کے ناقدین کو ضرور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نئی حکومت کو برسر اقتدار آئے ہوئے ابھی صرف چند ماہ ہوئے ہیں۔ '' خامنہ ای نے ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں سے بات کرتے ہوئے کہا '' اس مدبر کو ضرور وقت دیا جانا چاہیے تاکہ معاملات آگے بڑھ سکیں۔ ''

واضح رہے جب سے ابتدائی جوہری معاہدہ ہوا ہے شدت پسند حلقے صدر روحانی حکومت اور اعلی ترین مذاکرات کار جواد ظریف کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جبکہ روحانی کا موقف ہے کہ معاہدے سے ایران کو پابندیوں سے نجات مل رہی ہے اور ایرانی معیشت کو فائدہ ہو گا۔

ایرانی رہبر نے مزید کہا '' امریکا کیلیے ممکن ہوتا تو ایرانی حکومت کو اکھاڑ پھینکتا۔'' ایرانی انقلاب کی 35 ویں سالگرہ کے سلسلے میں ایرنی رہبر نے خطاب کرتے ہوئے کہا '' ایرانی معیشت کی بحالی کیلیے ہمیں بتدریج ختم ہونے والی پابندیوں کے بجائے اپنی کوششوں پر بھروسہ کرنا ہو گا۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں