حمص: لڑائی پھر شروع، امدادی قافلے روک دیے گئے

حلب پر بھی بمباری، حمص میں باغیوں کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں سرکاری افواج کی بدترین بمباری اور طویل محاصرے میں رہنے والے شہر حمص کیلیے امدادی قافلے پہنچنے سے پہلے رکنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

واضح رہے حمص کیلیے امدادی اشیاء کی فراہمی کا فیصلہ جنیواٹو کے اختتام کے بعد عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی غیر معمولی کوششوں کے باعث ممکن ہوا تھا۔ لیکن متحارب فریقین کے درمیان دوبارہ سے اس علاقے کے قرب و جوار میں شروع ہونے والی لڑائی سے ان امدادی قافلوں کا حمص میں داخلہ ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ لڑائی ہفتے کے روز دوبارہ شروع ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شامی سرکاری افواج توپ خانے کے علاوہ بمبار طیاروں کی مدد سے شمالی شہر حلب کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کیلیے سرگرم کارکنوں کے مطابق حمص کے زیر محاصرہ پرانے شہر میں ہفتے کی صبح ہی مارٹر گولوں سے بمباری کی گئی تھی۔

ایک کارکن جس نے اپنا نام سمیر الحمصی بتایا ہے کا کہنا ہے کہ '' سرکاری افواج نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے کی طرف 11 راکٹ فائر کیے ہیں۔ اس راکٹ حملے کا ہدف حمیدیہ کا علاقہ تھا۔ ایک عالمی خبر رساں ادارے کی اطلاع کے مطابق اس صورت حال میں امدادی شپمنٹ کو روک دیا گیا ہے۔

تاہم فریقین نے ایک دوسرے پر بمباری اور حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نے گورنر حمص کا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' دہشت گرد گروپوں نے ہفتے کی صبح جنگ بندی کو توڑ دیا اور حمص میں پولیس کی عمارت کو نشانہ بنایا۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کا ایک قافلہ ہفتے کی صبح خوراک اور ادویات لیکر حمص شہر میں داخلے کیلیے تیار تھا۔ جبکہ ایک روز قبل تقریبا 600 دن تک حمص کا محاصرہ جاری رہنے کے بعد درجنوں شہریوں کو بحفاظت حمص سے باہر نکالا گیا ہے۔ اسی طے پانے والے معاہدے کے بعد خوراک اور ادویات سے لدے قافلے حمص کیلیے روانہ ہوئے تھے لیکن اب انہیں لڑائی بھڑک اٹھنے پر روک دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں