فلوجا کے عسکریت پسند ہتھیار پھینک دیں: عراقی گورنر

ہتھیار پھیکنے والوں کیلیے عام معافی ہو گی، فورسز کی پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے صوبائی گورنر نے فلوجا پر قابض عسکریت پسندوں کو ایک ہفتے میں ہتھیار پھینکنے کی وارننگ دی ہے۔ گورنر نے یہ وارننگ عسکریت پسندوں کے کئی ہفتوں پر پھیلے قبضے کو ختم کرانے کیلیے سرکاری افواج کی سست روی پر مبنی پیش قدمی کے بعد دی ہے۔

اس سے پہلے تجزیہ کار اور سفارتکار یہ کہہ چکے ہیں کہ شیعہ قیادت کی حامل حکومت کو سنی اکثریت کے صوبے میں سنیوں کی شکایات کا ازالہ کرنا چاہیے۔ لیکن اپریل میں عام انتخابات کے پیش نظر وزیر اعظم نورالمالکی نے سختی کا راستہ اختیار کیا ہے۔

گورنر احمد الدولائمی نے ایک جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ''جرائم پیشہ عناصر نے فلوجا کو یرغمال بنا رکھا ہے، لیکن ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نا انصافی کیخلاف فتح پائیں گے اور فلوجا میں معمول کی زندگی بحال ہو جائے گی۔''

گورنر نے عسکریت پسندوں کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ'' ہتھیار پھینکنے والوں کیلیے عام معافی ہو گی، تاہم حکومت آئی ایس آئی ایل کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گی کیونکہ یہ قاتل اور جرائم پیشہ لوگ ہیں۔''

واضح رہے فلوجا اور صوبہ انبار کا دارالحکومت رمادی گزشتہ کئی ہفتوں سے فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم کا مرکز بنا ہوا ہے۔ رمادی اس سے پہلے سنی مزاحمت کا مرکز رہ چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں