مصر: حمدین الصباحی کا صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان

باغیانہ [تمرد] تحریک کی قیادت میں اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر کی سیکولر نظریات کی حامل سیاسی جماعتوں "پاپولر فرنٹ" اور "الکرامہ" کے سربراہ حمدین الصباحی نے پیش آئند صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

ہفتے کے روز قاہرہ میں اپنی پارٹی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الصباحی کا کہنا تھا کہ "ایک مصری باشندے کی حیثیت سے میں نے ملک کے پیش آئند صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے"۔ اس موقع پر الصباحی کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اعلان سُن کر ان کے حامیوں نے ہاتھ اٹھا کر ان کے فیصلے کی تائید کی اور ان کی حق میں نعرے بھی لگائے۔

درایں اثناء مصرمیں انقلابیوں کی نمائندہ بغاوت "تمرد" تحریک کے بانی محمد عبدالعزیز نے حمدین الصباحی کی بہ طور صدارتی امیدوار تائید کا اعلان کیا ہے۔ قبل ازیں تمرد تحریک فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کو صدر منتخب کیے جانے کی حمایت کرچکی ہے۔ عبدالعزیز بھی حمدین الصباحی کے ہمراہ کانفرنس میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیش آئند صدارتی الیکشن میں میرا ووٹ الصباحی کے لیے ہو گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قاہرہ میں پاپولر فرنٹ کے زیراہتمام لیڈر شپ ڈویلپمنٹ سینٹر میں منعقدہ جلسے اور نیوز کانفرنس کے دوران حمدین الصباحی نے اپنے سیاسی منشور کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں قوم کے حقیقی نمائندہ کی حیثیت سے صداتی انتخابات میں حصہ لے رہا ہوں۔ قوم کی خواہشات اور امنگوں پر پورا اتروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، پولیس اور دیگر تمام سیکیورٹی ادارے ملک وقوم کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ ان کا احترام یقینی بناؤں گا۔ انقلابیوں کا حقیقی ترجمان ہوں گا اور کرپشن کےخلاف ہر محاذ پر جنگ لڑوں گا۔ انہوں نے فوج اور قوم کے درمیان باہمی اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ میں ملک میں عادلانہ جمہوری نظام کی داغ بیل ڈالنے کا خواہاں ہوں جس میں فوج اور قوم ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔

اخبار "الیوم السابع" کے مطابق پاپولر فرنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ڈاکٹر محمد عدل نے کہا کہ حمدین الصباحی نے پارٹی قیادت سے مشورے کے بعد صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے آئندہ بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں حمدین الصباحی کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

درایں اثناء سماج پارٹی کے مرکزی رہ نما حسین عبدالرزاق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی الیکشن میں زیادہ سے زیادہ امیدواروں کا حصہ لینا جمہوریت کی علامت ہے۔ جتنے زیادہ امیدوار اور مختلف خیالات رکھنے والے افراد انتخابات میں حصہ لیں گے ملک میں جمہوریت اتنی زیادہ پھلے پھولے گی اور عوام میں جمہوری سوچ پختہ ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدارتی انتخابات فرد واحد کے چناؤ کا ریفرنڈم نہیں ہونا چاہیے۔ حمدین الصباحی اور ڈاکٹر عبدالمنعم ابوالفتوح کا صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان جمہوریت کے حوالے سے خوش آئند خبریں ہیں۔

خیال رہے کہ حمدین الصباحی جون 2012ء کے صدارتی انتخابات میں بھی امیدوار تھے لیکن وہ اخوان المسلمون کے ڈاکٹر محمد مرسی کے ہاتھوں بدترین شکست سے دوچار ہوئے تھے۔ حمدین الصباحی کو مجموعی طور پر ڈالے گئے ووٹوں میں سے صرف 20 فی صد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔

حمدین الصباحی کی حمایت اور مخالفت کے حوالے سے باغیوں کی نمائندہ تحریک کے قائدین میں متضاد آراء سامنے آئی ہیں۔ "تمرد" تحریک کےایک بانی رکن محمد عبدالعزیز نے کھل کرالصباحی کی حمایت کی ہے جبکہ تحریک کے ایک دوسرے سرکردہ رہ نما محمود بدر نے حمدین الصباحی کی انتخابی دوڑ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ "سی بی سی" ٹیلی ویژن نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر بدر کا کہنا تھا کہ ہر امیدوار اپنے سیاسی قد کاٹھ کی بناء پر صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے.

حمدین الصباحی نے بھی اپنی عوامی پذیرائی معلوم کرنے کے لیے صدارتی دوڑ میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ "تمرد" تحریک حمدین الصباحی کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے جن رہ نماؤں الصباحی کی حمایت کا عندیہ دیا ہے وہ انقلابیوں کی توجہ پاپولر فرنٹ کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محمود بدر نے مزید کہا کہ انقلابیوں کو حمدین الصباحی کی الیکشن مہم میں براہ راست شریک نہ ہوں بلکہ مہم سے باہر اور غیر جانب دار رہ کر حمایت کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں