.

حمص سے مزید 300 محصور شہریوں کا انخلاء

جنیوا مذاکرات کا دوسرا دور، تشدد کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی انجمن ہلال احمر نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے محاصرے کا شکار وسطی شہر حمص سے چوتھے روز مزید تین سو افراد کو نکال لیا ہے اور انھیں بیرون شہر قائم کیے گئے ملاقات مرکز میں منتقل کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حمص کے قدیم حصے سے شہریوں کے انخلاء کے لیے کارروائی کی مدت میں بدھ کی رات تک توسیع کردی جائے گی۔اقوام متحدہ کی انسانی امور کی سربراہ ولیری آموس نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ وہ خود اس شہر میں پھنسے ہوئے شہریوں کو نکالنے کے لیے کارروائی کی نگرانی کررہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے شدہ سمجھوتے کے تحت گذشتہ جمعہ کے بعد سے حمص سے قریباً سات سو افراد کو نکالا گیا ہے جبکہ اس دوران متحارب جنگجو دھڑوں کی جانب سے متعدد مرتبہ اس سمجھوتے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور حمص میں امدادی سامان لے جانے والے قافلوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق جمعہ کے بعد سے حمص میں گولہ باری کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔شامی حکومت اور باغیوں دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عاید کیے ہیں۔

جنیوا مذاکرات

حمص میں محصور شہریوں کے لیے جاری انسانی امدادی آپریشن کے تناظر میں ادھر جنیوا میں حزب اختلاف اور شامی حکومت کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگیا ہے۔

دس روز کے وقفے کے بعد بات چیت کے آغاز سے قبل اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی نے طرفین کے وفود سے کہا ہے کہ وہ لڑائی کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام پر تبادلہ خیال کے عزم کا اظہار کریں۔

شامی حکومت نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ پہلے دہشت گردی سے نمٹنے پر اتفاق کیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ شامی حکومت صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کو دہشت گردی قرار دیتی چلی آرہی ہے۔حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت میں صدر بشارالاسد کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے جبکہ شامی حکومت کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی جائے گی۔

شامی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس نے الاخضر الابراہیمی کو عبوری حکومت کا ایک خاکہ پیش کردیا ہے اور عینی شاہدین کے بیانات بھی پیش کیے ہیں جن میں انھوں نے کہا تھا کہ شامی فوج نے امدادی سامان لے کر جانے والے امدادی قافلے پر فائرنگ کی تھی۔تاہم حکومت نے باغی جنگجوؤں پر فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے۔

شامی انجمن ہلال احمر نے ہفتے کے روز باغیوں کے زیر قبضہ حمص کے بعض علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کی اطلاع دی تھی۔اس شہر کا شامی فوج نے گذشتہ چھے سو دنوں سے بھی زیادہ عرصے سے محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی آبادی نان جویں کو ترس رہی ہے۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے شمالی شہر حلب میں بیرل بم برسانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ہیلی کاپٹروں کے ذریعے برسائے جانے والے ان بموں سے گذشتہ ہفتے 18 سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت اور حزب اختلاف کے وفود پہلے دور میں شامی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔تاہم انھوں نے حمص میں محصور شہریوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے سے اتفاق کیا تھا۔اس سمجھوتے پر جمعہ کو عمل درآمد کا آغاز ہوا ہے اور وہاں محصور شہریوں تک امدادی سامان اور ادویہ بھی پہنچائی گئی ہیں۔