.

سعودی عرب کا شام پراقوام متحدہ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ

جنرل اسمبلی کے نام خط میں شام میں سنگین انسانی صورت حال پر اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے شام کی صورت حال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شام میں جو کچھ رونما ہورہا ہے،وہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ایک خط لکھا ہے جس پر سات فروری کی تاریخ درج ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے حکام شام میں جاری سنگین انسانی صورت حال ،جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے 2 اکتوبر 2013ء کے صدارتی بیان پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور یہ امر ناقابل قبول ہے۔اس بیان میں سلامتی کونسل نے شامیوں تک انسانی امداد پہنچانے اور خاص طور پر خانہ جنگی کا شکار علاقوں میں رہنے والے افراد تک فوری انسانی امداد کی رسائی کی اپیل کا اعادہ کیا تھا۔

سعودی عرب نے اپنے خط میں شام کے متحارب فریقوں کی بحران کے حل کے لیے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی عدم صلاحیت کا بھی ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ فریقین نے اگرچہ دس فروری سے جنیوا مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے اتفاق کیا تھا لیکن وہ پہلے دور میں شامی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔

مذاکرات کے پہلے دور میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے مندوبین نے وسطی شہر حمص میں محصور شہریوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے سے اتفاق کیا تھا۔اس سمجھوتے پر جمعہ کو عمل درآمد کا آغاز ہوا ہے اور وہاں محصور شہریوں تک امدادی سامان اور ادویہ پہنچائی گئی ہیں۔اتوار کو وہاں سے مزید چھے سو افراد کو باہر نکالا گیا ہے۔ ٹیلی ویژن پر خواتین،بچوں اور ضعیف العمر افراد کو بسوں سے اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔انھیں ان بسوں کے ذریعے محصور علاقوں سے بیرون شہر لایا جارہا ہے۔

شامی انجمن ہلال احمر نے ہفتے کے روز باغیوں کے زیر قبضہ حمص کے بعض علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کی اطلاع دی تھی۔اس شہر کا شامی فوج نے گذشتہ چھے سو دنوں سے بھی زیادہ عرصے سے محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی آبادی نان جویں کو ترس رہی ہے۔