.

خاندانی نظام پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات، یہودی تلملا اٹھے

قدامت پسند یہودیوں نے انٹرنیٹ کیخلاف کریک ڈاون شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قدامت پسند یہودیوں نے سوشل میڈیا کے استعمال کو یہودی خاندانوں کیلیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے سمارٹ فون اور میسجنگ کی سہولیات فراہم کرنے والے سوشل میڈیا کیخلاف مذہبی اور سماجی سطح پر مقدس جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا کی مختلف صورتیں قدامت پسند یہودی نوجوانوں میں بھی مقبولیت پا رہی ہیں۔ دی فار وررڈ نامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان میں سوشل نیٹ ورکنگ کیلیے ویب سائیٹس اور فیس بک کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

اس لیے یہودی ربیوں کا کہنا ہے کہ اپنے خاندانوں کو سوشل میڈیا سے بچانے کیلیے اس کے خلاف کریک ڈاون ضروری ہو گیا ہے کیونکہ یہ یہودی گھرانوں اور خاندانوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ حتی کہ طلاق کی شرح میں بھی سوشل میڈیا اضافے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

یہودی خاندانوں میں نکاح و طلاق کے معاملات کو دیکھنے والے مذہبی پیشواوں "ربیوں" کے مطابق طلاق کی ان دنوں سب سے بڑی وجہ یہ سوشل میڈیا ہے۔ اسرائیلی قدات پسند یہودیوں کے ترجمان اخبار دیر بلات کی رپورٹ کے مطابق ربی لوگ سوشل میڈیا کو کاروبار میں خرابی کی ایک اہم وجہ سمجھتے ہیں۔

اسی قدامت پسند گروپ سے ایک ویب فلٹرنگ کمپنی بھی منسلک ہے یہ فلٹرنگ کمپنی سوشل میڈیا پر آنے والے والے مواد کو سنسر کرے گی۔ جن میں آدیو ٹیپس، ویڈیو ٹیپس اور تصاویر شامل ہوں گی۔

واضح رہے مئی 2012 کے دوران نیو یارک میں چالیس ہزار قدامت پسند یہودیوں انٹر نیٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ یہودی ربیوں کا مطالبہ ہے کہ تمم کمپیوٹرز پر ویب فلٹرز لگائے جائیں۔