.

عبدالفتاح السیسی صدارتی انتخاب لڑیں گے:عمروموسیٰ

آرمی چیف مستقبل قریب میں خود صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی انتخاب لڑنے کے بارے میں افواہیں اور قیاس آرائیاں اب حقیقت کا روپ دھارتی نظر آتی ہیں اور مصر کے سابق وزیرخارجہ اور شکست خوردہ سابق صدارتی امیدوار عمروموسیٰ نے مصریوں کو یہ مژدہ جانفزا سنایا ہے کہ عبدالفتاح السیسی نے صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ مستقل قریب میں بہ ذات خود امیدوار ہونے کا اعلان کریں گے۔

مصر کے جہاں دیدہ سیاست دان عمرو موسیٰ نے یہ اعلان منگل کو فیلڈ مارشل السیسی سے ملاقات کے بعد کیا ہے۔مصری فوج کے سربراہ کے بارے میں ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013 ء میں برطرفی کے بعد سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ آیندہ صدر ہوں گے کیونکہ وہ خود کو قوم کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

59 سالہ فیلڈ مارشل السیسی نے کویتی اخبار السیاسیہ کے ساتھ گذشتہ ہفتے ایک طویل انٹرویو میں کہا تھا کہ ''وہ آیندہ صدارتی انتخاب میں امیدوار ہوں گے کیونکہ ن کے پاس مصری عوام کی خواہشات پر پورا اترنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں عوام کے مطالبے کو مسترد نہیں کروں گا۔میں خود کو مصری عوام کے سامنے پیش کروں گا اور آزادانہ انتخابات میں عوامی اعتماد کی تجدید کی کوشش کروں گا''۔

انھوں نے اس انٹرویو میں مزید کہا تھا کہ''ہم عوام کے خوابوں کے ساتھ نہیں کھیلیں گے یا انھیں یہ نہیں کہیں گے کہ ہمارے پاس جادو کی کوئی چھڑی ہے بلکہ ہم انھیں یہ کہیں گے کہ وہ نو کروڑ آبادی والے ملک کو آگے لے جانے کے لیے ہمارے ساتھ مل جل کر کام کریں''۔

تاہم مصری فوج کے ترجمان کرنل احمد علی کا کہنا تھا کہ کویتی اخبار نے آرمی چیف کے انٹرویو کی غلط تشریح کی ہے۔اخبار نے لکھا تھا کہ فیلڈ مارشل السیسی صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ترجمان کے بہ قول ''السیاسیہ نے جو کچھ شائع کیا ہے،وہ ایک صحافتی تعبیر وتشریح ہے اور یہ فیلڈ مارشل سیسی کا براہ راست اعلان نہیں ہے''۔

ترجمان کے بہ قول سیسی بہ ذات خود صدارتی انتخاب لڑنے کے فیصلے کا عوام کے سامنے واضح اور کھلے الفاظ میں اعلان کریں گے اور یہ اعلان کوئی اور نہیں کرے گا۔اب فوجی ترجمان کے بیان کی عمروموسیٰ نے بھی تائید کردی ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے گذشتہ ماہ ''فیلڈ مارشل'' اور وزیردفاع عبدالفتاح السیسی کو عظیم مصری عوام کی خواہش کے احترام میں اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔اس طرح ایک مرتبہ پھر مصر میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف برپا شدہ عوامی انقلاب کے تین سال کے بعد ''آمرانہ جمہوریت'' کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔

اب تک بائیں بازو کے سیاست دان اور 2012ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہنے والے حمدین صباحی نے ہی آیندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔دوسرے شکست خوردہ امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کی حمایت کریں گے۔ان میں عمرو موسیٰ پیش پیش ہیں۔عبوری صدر عدلی منصور کے مطابق صدارتی انتخابات 18 اپریل سے قبل ہوں گے۔