.

مرگ بر امریکا کے زور دار نعرے ، تہران گونج اٹھا

امریکا کیخلاف ان نعروں کا آغاز 1979 کے انقلاب سے ہوا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی انقلاب کی 35 سالگرہ کے موقع پر لاکھوں ایرانیوں کے مرگ بر امریکا کے روائتی انقلابی نعروں سے ایک بار پھر تہران گونج اٹھا۔

ریاستی میڈیا نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والی خوشگوار تبدیلیوں کے ماحول میں ان مخاصمانہ نعروں کو بطور خاص رپورٹ کیا ہے۔

انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ان نعروں کا بلند ہونا اہم بات ہے کہ ایران میں پچھلے سال جون سے آئی سیاسی تبدیلی کے باوجود امریکا کے بارے میں عوامی سطح پر ردعمل موجود ہے۔ جبکہ ڈاکٹر حسن روحانی مغرب کو ناراض کرنے کی پالیسی سے ہٹ کر سوچ رکھتے ہیں۔

ایرانی دارالحکومت میں امریکا کیخلاف یہ نعرہ زنی اس کے باوجود ہوئی ہے ایران نے 24 نومبر 2013 کو اپنے جوہری تنازعے پر ایک ابتدائی معاہدہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے ایران میں آنے والے 1979 کے انقلاب کے دنوں سے مرگ بر امریکا اور شیطان بزرگ امریکا کے نعرے لگنا شروع کیے گئے تھے۔ جن کی باز گشت روحانی دور میں بھی جاری ہے۔