یہودیوں نے فلسطینیوں کی 20 کاروں کے ٹائر پنکچر کر دیے

نشانہ بننے والی گاڑیوں پر عربوں سے منافرت پر مبنی نعرے تحریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینیوں کے خلاف یہودی شر پسندوں کی اشتعال انگیز معاندانہ سرگرمیاں روزانہ کا معمول ہیں۔ فلسطینیوں کی ملکیت یا ان سے نسبت رکھنے والی کوئی بھی چیز انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی شرارتوں سے محفوظ نہیں رہی ہے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق شرپسندوں نے ایک تازہ واردات میں مشرقی بیت المقدس کی ایک دیوار کے قریب کھڑی فلسطینیوں کی بیس گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر نسل پرستی کے مظہر نعرے بھی لکھ ڈالے۔

صہیونی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سمری نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کو بتایا کہ گاڑیوں کو پنکچر کرنے کا یہ واقعہ پیر کے روز قدیم جنوبی بیت المقدس میں سلوان کالونی میں عین الوزہ قصے میں پیش آیا۔

'اے ایف پی' کے نامہ نگار نے بتایا کہ انہوں نے ایسی انیس گاڑیاں دیکھی ہیں جن کے ٹائروں سے ہوا نکال دینے کے بعد ان پر عربوں کے خلاف نفرت آمیز نعرے درج کیے گئے تھے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ متاثرہ کاروں پر جگہ جگہ "ڈیوڈ سٹار" کے علاوہ "عرب مزدور=انصھار" کے الفاظ درج تھے۔ ایک کار پر لکھا گیا تھا کہ "انصہار" کے لیے اتنا کافی ہے۔

واضح رہے کہ یہودی شرپسند فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل پرستانہ منافرت کے اظہار کے لیے نت نئے نئے نعرے تخلیق کرتے رہتے ہیں۔"انصہار" عموما یہودیوں اور غیر یہودیوں کے اختلاط [میل جول] کے منفی پہلو کے اظہار کے لیے استعمال کی جانے وال اصطلاح ہے۔ ایک دوسری اصطلاح "قیمت چکانے" کی بھی استعمال کی جاتی ہے۔ یہودی آبادکار فلسطینیوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے بعد ان کے گھروں کی بیرونی دیواروں پر ایسی ہی تحریروں کی چاکنگ کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں