مصر:14 جنگجوؤں کے لیے سزائے موت کا فیصلہ برقرار

مجرموں کو العریش میں سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے جرم میں پھانسی دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے صدر نے چودہ اسلامی جنگجوؤں کو 2011ء میں شمالی سیناء میں پولیس پر حملے کے جرم میں سنائی گئی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

مصری صدارت نے 2011ء میں مجرم قراردیے گئے ایک اور جنگجو کی سزائے موت بھی برقرار رکھی ہے۔اس کے علاوہ آٹھ دیگر افراد کو سنائی گئی قید کی مختلف سزاؤں کو بھی برقرار رکھا ہے۔ان افراد کو 2005ء میں قاہرہ میں حملوں کے الزام میں قصوروار قرار دے کر جیل کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

اول الذکر تمام چودہ مجرموں کا تعلق ''التوحید والجہاد'' نامی گروپ سے ہے اور انھیں مصری عدالت نے 2012ء میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔انھوں نے 2011ء میں شمالی سیناء کے شہر العریش میں ایک پولیس اسٹیشن اور ایک بنک پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ،ایک شہری اور ایک فوجی افسر ہلاک ہوگیا تھا۔

مصر کے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے اپنے ایک سالہ دوراقتدار میں ان مجرموں کی سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے حکم نامے پر دستخط نہیں کیے تھے۔3جولائی 2013ء کو مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ان کی برطرفی کے بعد سے شمالی سیناء اور وادی نیل کے شہروں اور قصبوں میں سکیورٹی فورسز پر جنگجوؤں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان جنگجوؤں نے پہلے پہل 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران پَر پُرزے نکالے تھے اور اُس وقت پیدا ہونے والے سکیورٹی خلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور تنصیبات پر حملے شروع کردیے تھے۔اس کے بعد سے مصری فورسز نے بھی شمالی سیناء اور دوسرے علاقوں میں حکومتی عمل داری قائم کرنے کے لیے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے۔گذشتہ جمعہ کو شمالی سیناء میں فوج کے فضائی حملوں میں سولہ سخت گیر اسلامی جنگجو مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں