.

ایران جوہری معاملے پر تعمیری مذاکرات چاہتا ہے: حسن روحانی

ایرانی قوم کیخلاف کچھ نہیں ہونے جا رہا، ایسا سمجھنے والے چشمے بدل لیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ جائز اور تعمیراتی جوہری مذاکرات چاہتے ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار ایرانی انقلاب کی 35 سالگرہ کے موقع پر آزادی چوک تہران میں لاکھوں ایرانیوں سے خطاب کے دوران ایسے موقع پر کیا ہے جب ایک مرتبہ پھر تہران کے گلی کوچے مرگ بر امریکا کے روائتی نعروں سے گونجتے رہے۔

ایرانی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر بہت سے مظاہرین نے امریکی انڈر سیکرٹری وینڈی شرمین کو بھی ہدف بنایا جو امریکی وفد کی متعدد بار قیادت کرتے ہوئے تہران کے ساتھ مذاکرات کر چکی ہیں۔

یہ پہلا موقع تھا کہ ایرانی ہجوم نے کسی امریکی انڈر سیکرٹری کو لعن طعن کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ عام طور پر ایسی لعن طعن اور دشنام کا ہدف امریکی صدر اور امریکی وزیر خارجہ کو ہی بنایا جاتا ہے۔

ایران کے شدت پسند ریاستی ٹی وی اور بہت سے ایرانی ارکان پارلیمنٹ وینڈی شرمین کے پچھلے ہفتے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو دیے گئے اس بیان '' ایرانی حکومت نے پابندیاں نرم کیے جانے کے باعث 550 ملین ڈالر غیر منجمد ہونے کے بعد غربت زدہ افراد میں خوراک تقسیم کی ہے۔'' کے حوالے آگ بگولہ ہیں۔

وینڈی شرمین نے یہ بات سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں یہ اعتراض'' کہ ایران کی غیر منجمد کردہ رقم حزب اللہ پر خرچ نہ کر دی جائے" اٹھائے جانے پر جواب دیتے ہوئے کہی تھی۔ تاہم تہران کی گلیوں میں مطاہرین نے اس پر غم وغصے کا اظہار کیا۔

واضح رہے پچھلے ہفتے ایرانی حکومت نے افراط زر میں کمی کی کوششوں کے سلسلے میں غربت زدہ لوگوں میں خوراک مفت تقسیم کی تھی۔ تاہم خوراک کی تقسیم کا یہ پروگرام سابق صدر احمدی نژاد کے دور میں شروع کیا گیا تھا۔

تہران میں مظاہرین نے امریکی پرچموں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی پرچم بھی جلائے، نیز براک اوباما اور بنج،ن نیتن یاہو کی تصاویر بھی نذر آتش کی ہیں۔

تہران کے آزادی چوک پر صدر روحانی نے کہا '' جوہری مذاکرات اچھائی اور امن کی سوچ پر مبنی ہونے چاہیں۔'' انہوں نے اس موقع پر ایران پر حملے کی سوچ کو مسترد کر دیا۔

صدر روحانی نے کہا '' اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میز پر ایرانی قوم کے خلاف کچھ ہونے جا رہا ہے تو چاہیے کہ وہ اپنا چشمہ تبدیل کر لے۔''
انہوں نے مزید کہا ایران جوہری معاملے پر بین الاقوامی قواعد کے مطابق ایران جائز اور تعمیری مذاکرات چاہتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ دوسری جانب بھی یہی سوچ پائی جائے گی۔''