.

شامی بحران کے تصفیے کے لیے''بنیادی اصولوں'' کا اعلان

حزب اختلاف نے بحران کے حل اور عبوری حکومت کے قیام کے لیے''ویژن'' پیش کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا میں شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شریک حزب اختلاف نے ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے چوبیس بنیادی اصولوں پر مشتمل اپنا سیاسی منصوبہ پیش کردیا ہے۔

شامی حزب اختلاف نے جنیوا اول کے اعلامیے کے مطابق ملک میں عبوری حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ واضح رہے کہ 30 جون 2012ء کو طے پائے جنیوا اوّل کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ عبوری حکومت میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا لیکن شامی حکومت کا کہنا ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوگی۔حزب اختلاف کے چوبیس بنیادی اصولوں پر مبنی ویژن کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:

اول:جنیوا میں دوسری امن کانفرنس میں شریک دونوں فریق تنازعے کے ایک سیاسی حل پر متفق ہوں گے اور اس کو عبوری آئینی اعلامیے کی شکل دی جائے گی۔

دوم:عبوری گورننگ باڈی شامی ریاست کی خودمختاری اور آزادی کو برقرار رکھے گی اور پورے شامی علاقے میں امن کو یقینی بنائے گی۔عبوری حکومت تمام بیرونی جنگجو گروپوں اور غیر ملکی جنگجوؤں کو شام کے تمام علاقوں سے نکال باہر کرنے کے لیے درکار ہر طرح کے مناسب فیصلے اور اقدامات کرے گی۔

سوم:عبوری گورننگ باڈی خودمختار اور آزاد شامی ریاست کے قانونی نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔یہی نمائندے بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرے گی۔یہ عبوری حکومت سیاسی انتقال اقتدار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گی جس میں ملک کے تمام شہریوں کو بلا امتیاز حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

چہارم:عبوری حکومت ملک میں جاری تشدد اور اس کی تمام شکلوں کے خاتمے کے لیے طے پانے والے سمجھوتے پر عمل درآمد کرے؛ گی اور وہ خاص طور پر مسلح تشدد کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔ملک میں قیام امن کے لیے تمام فریق عبوری حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ مسلح گروپوں کے تشدد کے خاتمے کے لیے عبوری حکومت ایک جامع اقتصادی ،سیاسی ،سماجی ،عدالتی اور فوجی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگی۔

پنجم:ریاستی اداروں ،انٹیلی جنس اداروں اور مناسب اہلیت کے حامل سرکاری ملازمین کو برقرار رکھا جانا چاہیے،ان اداروں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جانا چاہیے اور ان میں بین الاقوامی انسانی حقوق اور لیبر قوانین کا نفاذ کیا جانا چاہیے۔اس مقصد کے لیے سرکاری اداروں کی تشکیل نو کی جائے گی۔

ششم:عبوری گورننگ باڈی کو شام کے تمام علاقوں میں عالمی انسانی تنظیموں کو امداد پہنچانے کی اجازت دینے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔کوئی بھی فریق انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں نہیں ڈالے گا۔تمام فریق عبوری حکومت کی قیادت میں شورش زدہ علاقوں سے شہریوں کے انخلاء ،مہاجرین اور دربدر افراد کی ان کے گھروں کو واپسی کے لیے تعاون کریں گے۔

ہفتم:عبوری حکومت کو تمام سیاسی قیدیوں ،ضمیر کے قیدیوں اور پرامن مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیے گئے شامیوں یا دوسرے زیر حراست افراد کی فہرستیں حاصل کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا اور اسے ان تمام کو آزاد کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔وہ 15 مارچ 2011ء کے بعد بنائے گئے فوجداری قوانین پر بھی نظرثانی کرسکے گی۔

ہشتم:عبوری حکومت اظہاررائے کی آزادی کا احترام کرے گی اور اس کو یقینی بنائے گی،سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو پرامن اجتماعات اور مظاہروں کے انعقاد کی اجازت دے گی۔وہ پریس کی آزادی اور تمام شامیوں کی میڈیا تک رسائی کو یقینی بنائے گی۔

نہم:وہ شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت دے گی۔شہریوں کو بلاتفریق رنگ ونسل،مذہب، فرقہ اور سیاسی وابستگی تمام شہری وسیاسی حقوق حاصل ہوں گے اور ان کا بطور شہری مساوی سماجی مرتبہ ہوگا۔وہ خواتین کو مساوی مواقع مہیا کرنے اور انھیں قومی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات کرے گی۔

دہم:عبوری حکومت تصفیاتی سمجھوتے کی روشنی میں وضع کردہ انتخابی نظام کے تحت دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کے لیے اقدامات کرے گی۔یہ دستور ساز اسمبلی ملک کا نیا آئین مرتب کرے گی اور اس نِئے آئین پر ریفرینڈم کے انعقاد کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔سول سوسائٹی کے آزاد گروپ ان انتخابات کو مانیٹر کرسکیں گے۔عبوری حکومت نئے آئین کی منظوری کے بعد کثیر جماعتی غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے گی۔منتخب حکومت کے قیام کے بعد عبوری باڈی اور دستوز ساز اسمبلی کا خاتمہ ہوجائے گا۔اس طرح شام میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔