.

عراق: تشدد کے خاتمے کے لیے ڈاکٹر بھی سڑکوں پر نکل آئے

عدم تحفظ کے شکار متعدد مسیحا ملک چھوڑنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کو امن کا گہوارا بنانے کے دعویدار عالمی ٹھکیداروں نے ملک کو بدامنی کی ایسی آگ میں جھونک دیا ہے جس میں ہر شعبہ زندگی حتیٰ کہ ڈاکٹر بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ عراق میں جاری تشدد کے نتیجے میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران ڈاکٹروں کی بڑی تعداد ملک چھوڑ کر چلی گئی اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ مسلسل ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں پر مجبور ہیں۔

پچھلے سال جولائی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم اور سائنس و ثقافت "یونیسکو" کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عراق پر امریکی حملے کے بعد جہاں دوسرے عام شہری تشدد کا سامنا کرتے رہے ہیں وہیں قوم کے مسیحا بھی پرتشدد کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہے۔ ریاست کے باغی اور قانون کے دشمن عناصر چن چن کر رحمت کے ان 'فرشتوں' کو نشانہ بناتے۔ انہیں قتل کرتے، زخمی کرتے اور انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرتے رہے ہیں۔ منظم حملوں اور مسلسل تشدد کے نتیجے میں ڈاکٹروں اور طب کے پیشے سے وابستہ ہزاروں افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں موجود ڈاکٹروں کے پاس اپنی جانیں بچانے کا سوائے پرامن احتجاجی مظاہروں کے اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ اپنے مسائل کے حوالے سے حکومت کو آگاہ کرنے اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے وہ مسلسل پرامن احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

صحت کے شعبے سے وابستہ کچھ عہدیداروں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ عراق میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کے بعد ڈاکٹر حضرات میں جہاں پُرامن احتجاج کا رحجان زور پکڑ رہا رہے، وہیں خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے بیرون ملک ھجرت کے رحجان کو بھی تقویت مل رہی ہے۔ ملک کے اندر سے ڈاکٹروں کو تحفظ دلانے، ان کے مطالبات پورے کرنے اور ان کی بیرون ملک سے واپسی کے مطالبات بھی اٹھ رہے ہیں۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت کو ان مطالبات میں کوئی دلچسپی ہے یا نہیں۔ ایسا دکھائی نہیں دیتا ہے"۔

خصوصی عدالتوں کا قیام کے مطالبات

عراقی محکمہ صحت سے وابستہ میڈیکل کنسلٹنٹ ڈاکٹر رافد الخزاعی نے اپنے پیٹی بھائیوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "حیرت کی بات یہ ہے لوگ بم دھماکوں میں مرتے یا زخمی ہوتے ہیں اور ان کے لواحقین موت کی ذمہ داری ڈاکٹروں پر ڈال دیتے ہیں۔ اصل قاتل اور قصاب کو سب بھول جاتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا مطالبہ مزید اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اب خصوصی عدالت ہی ڈاکٹروں کو تحفظ دلا سکتی ہے۔ اس طرح کی مثالیں امریکا اور متحدہ عرب امارات میں اپنائی جا چکی ہیں۔ یہ واحد ذریعہ ہے جس کے تحت ڈاکٹر اطمینان کے ساتھ اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے سکتا ہے۔ خصوصی عدالتیں ہی ڈاکٹروں، مریض اور سوسائٹی کے درمیان متوازن تعلقات کےقیام میں مدد گار ہوسکتی ہیں۔

ایک اور ڈاکٹر جاسم العزاوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے مسیحاؤں کے حقوق کی پامالی کی ذمہ داری حکومت اور میڈیا دونوں پرعائد ہوتی ہے۔ حکومت کی لاپرواہی سمجھ میں آتی ہے لیکن ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈاکٹروں کے مسائل نظرانداز کرنا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور معاشرے میں ڈاکٹروں کی قربانیوں کا شعور اجاگر کرنے کی اشدت ضرورت ہے اور یہ کام صرف ذرائع ابلاغ کر سکتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر ہی ہیں جو ہرطرح کے حالات میں گھروں سے نکلتے اسپتالوں میں جاتے اور فیلڈ میں نکل کر زخمیوں اور مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جانب فلپائن اور بھارت جیسے ملکوں سے طبی ماہرین کو یہاں بلا رہی ہے لیکن اپنے ہاں تیار ہونے والے ٹیلنٹ سے استفادہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ عدم تحفظ کے شکار ڈاکٹر ملک چھوڑنے پرمجبور ہیں۔

مبصرین کےخیال میں عراق میں ڈاکٹروں کو درپیش مشکلات نئی نہیں بلکہ یہ اس وقت ہی شروع ہوگئی تھیں جب سنہ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج نے عراق پر حملہ کیا تھا۔ بغداد یونیورسٹی میں ابلاغیات کے پروفیسر کاظم المقدادی کا کہنا ہے کہ جب سے عراق پرامریکیوں نے یلغار کی ہے اس کے بعد آنے والا ہر دن ڈاکٹروں پر پہلے سے بھاری رہا ہے۔