.

عراق: صوبہ انبار سے تین لاکھ افراد کی نقل مکانی

صرف چھ ہفتوں کے دوران 50 ہزار خاندان بے گھر ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبہ انبار میں بد امنی کی وجہ سے چھ ہفتوں کے دوران تین لاکھ شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے مرتب کردہ اعداد وشمار میں بتائی گئی ہے۔

سنی اکثریت کے صوبے میں حکومت کے حامی اور مخالفین کے درمیان تصادم پچھلے سال کے اواخر میں شروع ہوئے تھے۔ اس سے پہلے 2008 عراق سخت بد امنی کا شکار رہا ہے۔

پچھلے چھ ہفتوں کے دوران پھیلی بد امنی کی تازہ لہر کی وجہ تین لاکھ افراد اور مجموعی طور پر 50000 خاندانوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ زیادہ تر نقل مکانی کرنے والوں کا تعلق صوبائی دارالحکومت رمادی اور دوسرے اہم شہر فلوجا سے ہے۔ جو محوظ مقامات کی طرف نکل گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر عراق سے گیارہ لاکھ شہریوں نے حالیہ برسوں کے دوران ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کی ہے۔ تاہم صوبہ انبار کی تازہ نقل مکنی کی وجہ فرقہ وارانہ تصادم بنا ہے۔

آئندہ دنوں صوبہ انبار میں مزید بد امنی کا خطرہ ہے کیونکہ پچھلے کئی ہفتوں سے عسکریت پسندوں کو فلوجا سے نکالنے کیلیے سرکاری افواج کوشاں ہیں اور صوبے کے گورنر نے چار روز قبل عسکریت پسندوں کو ایک ہفتے میں ہتھیار پھینکنے کی وارننگ دے رکھی۔

واضح رہے یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت مخالف عسکریت پسندوں نے کسی شہر پر مسلسل کئی ہفتے سے قبضہ کر رکھا ہے۔ سرکاری افواج اپریل میں ہونے والے انتخابات سے پہلے اس صورت حال کو بدلنے کی تیاری میں ہیں۔