.

غزہ سے 70 مریضوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی

دستاویزات میں ''فلسطینی ریاست '' کا لوگو لگائے جانے پر اسرائیلی حکام کا اعتراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ستر مریضوں کو علاج ومعالجے کے لیے صہیونی ریاست کے علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ان کی منتقلی کی دستاویزات پر ''ریاست فلسطین'' لکھا ہوا تھا۔

ماضی قریب میں فلسطینیوں کی دستاویزات اور سرکاری اسٹیشنری میں''فلسطینی علاقے'' کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے لیکن دسمبر میں اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کا درجہ بڑھنے کا ایک سال پورا ہونے پر لوگو تبدیل کردیا گیا ہے اور اب اس کی جگہ ''ریاست فلسطین'' لکھا جارہا ہے۔

غزہ کے ضلعی رابطی دفتر کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ اسرائیلیوں نے ستر بیمار افراد کو ایریز بارڈر کراسنگ کے ذریعے اسرائیلی اسپتالوں میں جانے سے روک دیا ہے کیونکہ ان کی منتقلی کی درخواست پر ریاست فلسطین لکھا ہوا تھا اور اسرائیل نےا س کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔

اس فلسطینی عہدے دار کے مطابق ''اسرائیل کا فلسطینیوں کو روکنے کا فیصلہ سیاسی ہے اور اس کا بڑا مقصد امن مذاکرات کے دوران دباؤ بڑھانا ہے''۔حماس کے تحت وزارت صحت نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ دسمبر کے بعد پہلی مرتبہ فلسطینی مریضوں کو اسرائیلی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس عہدے دار کے بہ قول دسمبر کے وسط سے اب تک چالیس اور ستر کے درمیان مریض روزانہ طبی علاج معالجے کے لیے اسرائیلی علاقے یا مغربی کنارے کی جانب جاتے رہے ہیں اور ان تمام فلسطینیوں کی منتقلی کی درخواستوں پر ''فلسطینی ریاست'' ہی کا لوگو لگا ہوتا تھا۔

اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے جنوری میں یہ اطلاع دی تھی کہ غزہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو کینسر کی مریضہ اپنی والدہ کو علاج کے لیے مغربی کنارے کی جانب جانے کی اجازت دینے سے محض اس بنا پر انکار کردیا گیا تھا کہ اس کی شناختی دستاویزات پر ریاست فلسطین کا لوگو لگا ہوا تھا۔