.

غزہ:اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید

سرحدی باڑ کی جانب آنے والے نہتے فلسطینی پرقابض فوجیوں کی گولیوں کی بوچھاڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی میں سرحد پر نصب خاردار باڑ کے نزدیک فائرنگ کر کے ایک فلسطینی نوجوان کو شہید کر دیا ہے۔

غزہ کی حکمراں اسلامی جماعت حماس کے تحت وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے اس شہید فلسطینی کانام ابرایم سلیمان منصور بتایا ہے،اس نوجوان کی عمر چھبیس سال تھی اور وہ غزہ شہر کے مشرق میں لکڑیاں چُن رہا تھا کہ اس دوران قابض اسرائیلی فوجیوں نے اس پر فائرنگ کردی۔

قابض صہیونی فوج نے نہتے فلسطینی کے خلاف اپنی ننگی جارحیت کا حسب روایت یہ جواز پیش کیا ہے کہ وہ سرحدی باڑ کے نزدیک مشکوک حرکات کررہا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد فلسطینی غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان حد فاصل کے لیے لگائی گئی سرحدی باڑ کی جانب آئے تھے اور انھوں نے باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔اسرائیلی فوجیوں نے پہلے تو انھیں انتباہ کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔پھر ان میں سے ایک کو گولی مار دی۔واضح رہے کہ صہیونی فوج فلسطینیوں کے خلاف ہر جارحانہ کارروائی کے بعد اسی طرح کا من گھڑت جواز پیش کیا کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کے رابطہ کار برائے انسانی امور کے دفتر کے مطابق پیدل شہری اسرائیل کی لگائی گئی باڑ سے ایک سو میٹر دور جگہ تک آسکتے ہیں جبکہ گاڑیوں کو اس سے تین سو میٹر دور رکھنے کی اجازت ہے۔اسرائیلی فوج نے باڑ سے تین سو اور ایک سو میٹر تک کا علاقہ ممنوعہ قرار دے رکھا ہے۔

اگر کوئی فلسطینی بھول بھٹک کر ادھر آنکلے تو اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جاتی ہے لیکن کبھی کبھار خود صہیونی فوجی بھی ایسی فائرنگ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔4 فروری کو ایسی ہی دوستانہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی افسر ہلاک ہوگیا تھا۔