.

متوقع مصری صدارتی امیدوار کا سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

آجکل مصر میں حقیقی معنوں میں ضمیر کے قیدی موجود ہیں: حامدین صباحی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری سیاستدان حامدین صباحی نے ضمیر کے قیدیوں کی رہائی پر زور دیا ہے۔ وہ پہلے امکانی صدارتی امیدوار ہے جس نے ملک میں جاری سیاسی بنیادوں پر قید کیے جانے والے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

مصر میں صدارتی انتخابات امکانی طور پر ماہ اپریل میں ہونا طے پائے ہیں، صدارتی انتخابات کے بعد پارلیمانی انتخابات کرائے جانے کا اعلان کیا گیا۔ یہ سارا انتخابی عمل ماہ جون تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ رہنما حامدین ایک مرتبہ پھر موثر انتخابی مہم کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں ووٹرز میں بعض وجوہ سے بطور خاص پسند کیا جاتا ہے۔

حامدین صباحی نے خود کو بطور صدارتی امیدوار دو روز قبل پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اخوان المسلمون کے مخالف رہنما صباحی حال ہی میں احتجاج کو اجازت سے مشروط کرنے سے متعلق متعارف کرائے گئے نئے قاننون کی بنیاد بھی پر خود جیل جا چکے ہیں۔

صباحی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا اس وقت حقیقی طور پر ملک میں ضمیر کے قیدی موجود ہیں۔ واضح رہے جولائی 2013 میں پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ملک میں ان کے ہزاروں حامی جیلوں میں بند چلے آ رہے ہیں جبکہ دہشت گرد قرار دی گئی اخوان المسلمون کی پوری قیادت بھی قید ہے۔

حامدین صباحی اس سے پہلے محمد مرسی کے مقابل صدارتی انتخاب میں بطور امیدوار سامنے آ چکے ہیں، تاہم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے تھے۔ اب انہوں نے فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔