.

حمص میں جاری جنگ بندی میں مزید تین روز کی توسیع

اقوام متحدہ کی نگرانی میں وسطی شہر میں پھنسے ہوئے 1400 شہریوں کا انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وسطی شہر حمص میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں انسانی امداد بہم پہنچانے اور وہاں سے محصور شہریوں کے انخلاء کے لیے جنگ بندی میں مزید تین روز کی توسیع کردی گئی ہے۔

حمص کے گورنر طلال البرازی نے ایک بیان میں جنگ بندی میں جمعرات سے تین روز کی توسیع کا اعلان کیا ہے تاکہ وہاں باقی رہ جانے والے شہریوں کو بھی نکالا جا سکے۔انھوں نے بتایا ہے کہ گذشتہ جمعہ کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے محاصرے کا شکار قدیم شہر سے چودہ سو افراد کو نکالا گیا ہے اور ان میں سے دوسو بیس زیرحراست ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

گورنر نے ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ حمص سے حراست میں لیے گئے افراد کو آج جمعرات کو چھوڑ دیا جائے گا۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کل کتنے افراد کو رہا کیا جائے گا۔

طلال برازی کے بہ قول باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے نکالے گئے تین سو نوے اسلحہ برداروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے بدھ کو یہ اطلاع دی تھی کہ ان میں سے ایک سو گیارہ کو رہا کردیا گیا ہے۔تاہم اقوام متحدہ نے ان تمام افراد کی رہائی کی تصدیق نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ شامی حکام نے صرف بیالیس افراد کو چھوڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ تین سو چھتیس زیرحراست افراد کو شامی حکام نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جگہ پر منتقل کیا ہے اور ان سے تحقیقات کی جارہی ہے۔

شام کی انجمن ہلال احمر اور اقوام متحدہ کی گذشتہ جمعہ سے جاری مشترکہ امدادی سرگرمیوں کے دوران صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے محاصرے کا شکار وسطی شہر حمص سے کل چودہ سو سترہ افراد کو نکال کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔شامی فوج نے شہرکا گذشتہ چھے سو دنوں سے بھی زیادہ عرصے سے محاصرہ کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی آبادی نان جویں کو ترس رہی ہے۔

باغیوں کے زیرقبضہ حمص کے قدیم حصے میں قریبا تین ہزار افراد موجود ہیں۔تاہم ان میں سے جوان مرد گرفتاری کے خوف سے اپنے گھربار کو چھوڑنے کو تیار نہیں کیونکہ شامی فورسز ایسے نوجوانوں کو باغیوں کا ساتھی سمجھ کرگرفتار کررہی ہے۔

اس دوران متحارب جنگجو دھڑوں کی جانب سے متعدد مرتبہ جنگ بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور حمص میں امدادی سامان لے جانے والے قافلوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گذشتہ جمعے کے بعد سے حمص میں گولہ باری کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔شامی حکومت اور باغیوں دونوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عاید کیے ہیں۔