.

جنیوا مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی:فیصل مقداد

حزب اختلاف اور پشتی بان عبوری حکومت کے قیام پر ہی توجہ مرکوز نہ کریں:لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ جنیوا میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دورمیں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

فیصل مقداد نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں بہت افسوس ہے کہ اس دور میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ہم نے انسانی امداد کی فراہمی میں اپنے طور پر بہتر اقدامات کیے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی انسانی امور کی سربراہ ولیری آموس کے بعض بیانات بالکل ناقابل قبول ہے''۔

واضح رہے کہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جنیوا میں گذشتہ سوموار کو مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا تھا لیکن دونوں فریقوں نے ہی ایک دوسرے پر مذاکرات کی ناکامی کے الزامات عاید کیے ہیں۔فیصل مقداد کی اس نیوزکانفرنس سے چندے قبل حزب اختلاف کے ترجمان لوئی الصافی نے فریق مخالف یعنی شامی حکومت کو مذاکرات میں تعطل کا ذمے دار قراردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر صورت حال تبدیل نہیں ہوتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ مذاکرات سیاسی حل کی جانب نہیں بڑھ رہے ہیں جبکہ ہم سنجیدہ مذاکرات کے منتظر ہیں''۔

درایں اثناء روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے شامی حزب اختلاف کے حامیوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ''رجیم کی تبدیلی''چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جنیوامذاکرات کے دوران صرف عبوری حکومت کے قیام پر ہی توجہ مرکوز نہیں کی جانی چاہیے۔

لاروف نے کہا کہ مذاکرات کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر حزب اختلاف اور ان کے پشتی بان ہی اس کے ذمے دار ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات تادیر جاری نہیں رہ سکتے ہیں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کی انسانی امور کی سربراہ ولیری آموس نے جمعہ کو ایک بیان میں شامی فوج کے محاصرے کا شکار وسطی شہر حمص سے چودہ سو افراد کے انخلاء کو ایک اہم کامیابی قراردیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ حمص آپریشن شام میں مستقبل کی امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے ماڈل نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''شام کے دوسرے محصور علاقوں میں بھی اس وقت قریباً ڈھائی لاکھ افراد انخلاء کے منتظر ہیں۔حمص میں جاری جنگ بندی میں توسیع کے لیے دونوں فریقوں نے زبانی تو یقین دہانی کرادی ہے لیکن حکام ابھی تک تحریری تصدیق کے منتظر ہیں کیونکہ اس کے بغیر ہم اپنی امدادی سرگرمیوں کو جاری نہیں رکھ سکتے ہیں''۔